حق کیلئے جان دینا اور باطل سے سمجھوتہ نہ کرنا کربلا کا پیغام ہے مسجد عالیہ گن فاونڈری میں خطاب

   

حیدرآباد ۔ 11ستمبر (پریس نوٹ) ڈاکٹر مفتی محمد محامد ہلال اعظمی ایڈیٹر ماہنامہ ’’صدائے شبلی‘‘ حیدرآباد مسجد عالیہ گن فاونڈری عابڈس حیدرآباد میں خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اللہ نے مہینوں کی تعداد 12 بتائی ہے۔ ان میں چار مہینے حرمت والے ہیں یعنی ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم الحرام، رجب المرجب، محرم الحرام میں ایک دن ایسا ہے جسے یوم عاشورہ کہا جاتا ہے یعنی دس محرم۔ یہ دن ایسا ہے کہ اس کائنات کا اول بھی آخر بھی ہے اور اس کے درمیانی عاشوروں میں عالمی انقلابات رونما ہوئے جو ساری دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں۔ طاقت، دولت اور اقتدار سب کچھ نہیں ہوتا بلکہ حقیقت میں حق ہی حق ہوتا ہے۔ یوم عاشورہ میں روزہ رکھنے، کھانا کھلانے، یتیموں پر شفقت کرنے کی فضیلت آئی ہے۔ صحابہ کرام ؓ کے استفسار پر رسول اکرمؐ نے اسے تمام دنوں میں افضل قرار دیا ہے۔ ماضی کے تمام واقعات کو نظرانداز کرتے ہوئے ہم دنیا کے اس انقلابی واقعہ کو یاد کرتے ہیں جو کربلا کے میدان میں پیش آیا۔ یہاں پر ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ شہادت غم کی چیز نہیں ہے بلکہ اعزاز و اکرام کی بات ہے۔ قرآن مجید نے شہیدوں کو مردہ کہنے سے منع کیا اور حدیث میں حضوراکرمؐ نے شہادت کی تمنا کی ہے جو دلیرانہ شہادت کربلا کے میدان میں نواسہ رسولؐ جگر گوشہ بتول حضرت حسینؓ کی ہوتی۔ اس کے فلسفے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ حضرت حسینؓ غلط سسٹم کی مخالفت کررہے تھے اور انہوں نے حق پرستوں اور حق کی لگن رکھنے والوں کیلئے جو چراغ اپنے لہو سے روشن کیا ہے وہ قیامت تک کیلئے مشعل راہ ہے۔ اے لوگو! آج بھی ہمارے درمیان جبر و تشدد کی حکمرانی ہے اور یہ ظلم و استبداد صرف حکومتوں اور ممالک تک محدود نہیں ہے بلکہ بیشتر شعبہ جات میں سرایت کرچکا ہے، اس وجہ سے اگر ہمیں صداقت کا علم بلند رکھنا اور حق کا بول بالا کرنا ہے تو خاک کربلا سے عبرت حاصل کرنا ناگزیر ہے۔