دمشق ۔ 10 جنوری (ایجنسیز) شامی حکومت نے جمعہ کی صبح تک جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کرد فورسز سے شہر خالی کر کے دیگر علاقوں میں منتقل ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ کرد فورسز نے اسے ’’ہتھیار ڈالنے کی اپیل‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ شامی فوج نے حلب میں کرد فورسز پر دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔ یہ حملے کرد گروہوں کی جانب اس حکومتی مطالبے کو مسترد کرنے کے بعد کیے گئے جس میں ان مسلح گرہوں سے اپنے ٹھکانے چھوڑ دینے کا کہا گیا تھا۔ شامی حکومت ایک سال قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مختلف مسلح گروہوں کو متحد کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ جمعہ کے روز شام کے شہر حلب میں ایک بار پھراس وقت جھڑپیں ہوئیں، جب کرد گروہوں نے حکومت کے مطالبے پر اپنے ٹھکانے چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ شامی فورسز نے شیخ مقصود اور اشرفیہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا، جو 2011 میں شروع ہونے والی جنگ کے ابتدائی دنوں سے کرد فورسز کے زیرِ کنٹرول ہیں۔ اگرچہ کرد جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ وہ شہر چھوڑ چکے ہیں، تاہم کرد سکیورٹی فورسز اب بھی وہاں موجود ہیں۔ شامی وزارتِ دفاع نے جمعہ کی صبح تک جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کرد فورسز سے شہر خالی کر کے دیگر کرد اکثریتی علاقوں میں منتقل ہونے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن کرد فورسز نے اسے ’’ہتھیار ڈالنے کی اپیل‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ اپنے محلوں کا دفاع کریں گی۔ چند گھنٹوں بعد وزارتِ دفاع نے کہا کہ انخلا کی مہلت ختم ہو چکی ہے اور فوج طاقت کے ذریعہ علاقوں کا کنٹرول سنبھالے گی۔ وزارت کے مطابق کرد فورسز کے ان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے ’’اہلِ حلب‘‘ پر حملے کیے جا رہے تھے۔ کرد سیکوریٹی فورسز نے کہا کہ بعض حملے ایک اسپتال پر بھی ہوئے اور اسے جنگی جرم قرار دیا، جبکہ وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ مذکورہ مقام اسلحہ ڈپو کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ ہفتہ کی صبح شامی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے شیخ مقصود کے علاقہ میں تلاشی کارروائی مکمل کر لی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقہ فوج کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔