کانگریس پارٹی کے امکانات روشن ، بی جے پی سے راست مقابلہ ، جنتادل سیکولر بھی سرگرم
گلبرگہ 16فروری(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) حلقہ اسمبلی الند ضلع گلبرگہ میں اس بار بھی اسمبلی انتخابات میں بی جے کے قائد اور موجودہ رکن اسمبلی الند سبھاش گتہ دار اور کانگریس کے امیدوار سابق رکن اسمبلی الند مسٹر بی آر پاٹل کے مابین ہونے کا امکان ہے ۔ گزشتہ تین دہوں سے یہ دونوں قائیدین ایک دوسرے کے روایتی حریف رہے ہیں ۔ اس بار جنتا دل سیکولر الند میں کانگریس امیدوار کے ووٹوں کو کم کرنے کی ذمہ دار ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ مسٹر بی آر پاٹل اور سبھاش گتہ دار الند حلقہ اسمبلی میں گزشتہ تین دہائیوں سے یعنی 1994سے ایک دوسرے خلاف مختلف پارٹیوں میںرہتے ہوئے انتخاب لڑتے رہے ہیں ۔بی آر پاٹل کو گزشتہ اسمبلی انتخابات میں صرف 697ووٹوں سے شکست ہوئی تھی ۔ واضح رہے کہ 1994کے بعد الند میں کانگریس کو ایک بار بھی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ پاٹل سابق میں جنتا دل سیکولر اورکرناٹک جنتا پارٹی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں ۔جب کہ گتہ دار کرناٹک کانگریس پارٹی ، جنتا دل سسیکولر ، کرناٹک جنتا پکش اور بی جے پی کے ٹکٹ پر الند اسمبلی انتخاب جیت چکے ہیں ۔ لیکن اس بار کہا جارہا ہے کہ وہ اپنی زیادہ عمر اور ضعیفی کے سبب اپنے فرزند ہرشا کو حلقہ اسمبلی الند سے بی جے پی امیدوار بنانے والے ہیں ۔حلقہ اسمبلی الند 2,36,164 رائے دہندوں پر مشتمل حلقہ ہے ۔ جن میں 1,23,164مرد ہیں اور 1,13,049خواتین ووٹرس ہیں ۔پنچم سالیز، آدی بناجی گاز، لنگایت ، مسلمان اور دلت اس حلقہ اسمبلی کے فیصلہ کن رائے دہندگان میں شامل ہیں ۔ بی جے پی یہاں ریاستی اور مرکزی حکومت کے کارناموں پر بھروسہ کررہی ہے۔ سبھاش گتہ دار کا تعلقہ اٹگا ذات سے ہے ۔ جب کہ لنگایت لیڈر بی آر پاٹل روایتی انداز میں اپنے کانگریس کے ووٹ بینک ، اقلیتوں ، پسماندہ طبقات وغیرہ پر انحصار کئے ہوئے ہیں ۔ انھیں قومی امید ہے کہ ملیکارجن کھرگے کے صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی منتخب ہونے کے سبب الند کے دلت طبقات اور اقلیتی طبقات کانگریس کا بھر پور ساتھ دیں گے ۔اس بار یہ بھی کہا جارہا ہے کہبی جے پی حکومت الند میں گزشتہ پانچ سال گزر جانے کے باوجود بھی بھیما ندی کا 350کروڑ روپیوں پر مشتمل پروجیکٹ مکمل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ پھر کسان فصلوں کے بیمہ معاوضوں سے بھی محروم ہیں ۔ اس دوران جنتا دل سیکولر کے امیدوار مہیش واری والی نے حلقہ اسمبلی الند میں اپنی انتخابی سرگرمیاں شروع کردی ہیں ۔ پارٹی کے لیڈر ایچ دی دیوے گوڑا اور سابق چیف منسٹر کمار سوامی پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے الند کا دورہ کرچکے ہیں ۔ ادھر کانگریسی قائیدین اور الند کے بہت سے سیاسی حلقوں میں ٰکہا جارہا ہے کہ گزشتہ بار مسٹر بی آر پاٹل جو الند کے کانگریس امیدوار کی حیثیت سے حلقہ اسمبلی کے انتخابات میں صرف 697ووٹوں کی کمی کے سبب انتخاب ہار گئے تھے ، اس بار ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہوگئے ہیں کیوں کہعلاقہ حیدر آباد کرناٹک اور ضلع گلبرگہ سے تعلق رکھنے والے ممتاز کانگریسی لیڈر ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے اس بار آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے ہیں ۔حلقہ جات اسمبلی الند ، گلبرگہ شمالی ، گلبرگہ ،جنوبی و گلبرگہ دیہی کے علاوہ چنچولی ، سیڑم ،شوراپور و دیگر حلقہ جات کے کانگریسی قائدین اس بار توقع کررہے ہیں کہ کرناٹک میںڈاکٹر ملیکارجن کھرگے ، سابق چیف منسٹر سدرامیا اور ریاستی صدر کانگریس ڈای کے شیو کمارکی قیادت کے سبب کانگریس کرناٹک میں دوبارہ اقتدار پر آسکے گی ۔