تلگو دیشم اور بی جے پی امیدواروں کا اعلان، کانگریس اور ٹی آر ایس میں اصل مقابلہ
حیدرآباد ۔ 29 ۔ ستمبر (پی ٹی آئی) تلنگانہ کے حلقہ اسمبلی حضور نگر کے 21 اکتوبر کو منعقد شدنی ضمنی انتخابات کے لئے تلگو دیشم اور بی جے پی نے آج اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا ۔ جس کے ساتھ ہی اس حلقہ میں ہمہ رخی مقابلہ یقینی ہوگیا جس میں کانگریس امیدوار پدماوتی ریڈی اور ٹی آر ایس کے ایس سیدی ریڈی کے درمیان اصل مقابلہ ہوگا۔ تلگو دیشم تلنگانہ یونین کے صدر ایل رمنا نے اعلان کیا کہ چاوا کرن مائی کو ان کی پارٹی کی امیدوار بنایا گیا ہے ۔ رمنا نے کہا کہ ’’تلگو دیشم پارٹی ہمیشہ ہی تلنگانہ کی ترقی کیلئے کام کرتی رہی ہے ۔ چاوا کی کرن مائی ایک سرگرم کارکن ہیں جنہوں نے پارٹی کی خدمت کی ہے ۔ چنانچہ انہیں نامزد کیا ہے‘‘۔ دوسری طرف بی جے پی کی مرکزی الیکشن کمیٹی نے کوٹا راما راؤ کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ اس دوران حکمراں ٹی آر ایس نے ضمنی انتخابات میں سی پی آئی سے تائید طلب کی ہے۔ ٹی آر ایس کے ایک سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن کے کیشو راؤ نے کہا کہ پارٹی کے صدر اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایات کے مطابق انہوں نے سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی اور دیگر قائدین سے ملاقات کی ۔ اس دوران بائیں بازو کی جماعت سے تعاون طلب کیا گیا ۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ سی پی آئی نے 2018 ء کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس اور تلگو دیشم اتحاد میں شامل رہتے ہوئے ٹی آر ایس کے خلاف مقابلہ کیا تھا۔ وینکٹ ریڈی نے دعویٰ کیا کہ دونوں پارٹیاں (ٹی آر ایس اور سی پی آئی) تلنگانہ تحریک کے دوران ایک ساتھ کام کرچکی ہیں۔ ٹی آر ایس امیدوار کی تائید کے بارے میں کمیونسٹ قائد نے کہا کہ ’’ہم اس مسئلہ پر مرکزی قیادت سے تبادلہ خیال کے بعد یکم اکتوبر کو فیصلہ کا اعلان کریں گے ۔ ٹی آر ایس کے امیدوار کی حیثیت سے ایس سیدی ریڈی نے حضور نگر حلقہ سے پرچہ نامزدگی داخل کردیا ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر این اتم کمار ریڈی (موجودہ رکن اسمبلی) کے لوک سبھا کیلئے انتخاب کے بعد ضمنی انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہوگیا ہے۔ اتم کمار ریڈی کی اس نشست پر ان کی شریک حیات و سابق رکن اسمبلی این پدماوتی کو کانگریس نے حضور نگر سے امیدوار نامزد کیا ہے۔