حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ پسماندہ ، سرکاری دواخانہ ، جونیر و ڈگری کالجس سے محروم

   

جعفر حسین معراج مجلس اور مجلس بچاؤ تحریک سے امجد اللہ خان کے درمیان سخت مقابلہ
حیدرآباد۔17۔نومبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے پسماندہ ترین حلقہ جات اسمبلی میں شہر حیدرآباد کا حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کا شمار ہوتا ہے جہاں 1967 سے مجلس اتحاد المسلمین کا قبضہ ہے اور کسی زمانہ میں اس حلقہ اسمبلی کی حالت اس قدر تباہ کن نہیں تھی لیکن اب اس حلقہ اسمبلی کی پسماندگی کا یہ حال ہے کہ یہاں کوئی سرکاری دواخانہ ‘ سرکاری جونیئر کالج یا ڈگری کالج تک نہیں ہے۔ شہر حیدرآباد کے بیشتر حلقہ جات اسمبلی میں خستہ حالی کا شکار ہی سہی لیکن جونئیر وڈگری کالج موجود ہیں لیکن حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ ایک ایسا حلقہ اسمبلی ہے جہاں مسائل کی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ نالوں کی صفائی ‘ کچہرے کی صفائی ‘ تعلیم ‘ صحت‘ معاشی حالت‘ سود خوروں کے مظالم‘ غنڈہ عناصر کی سرگرمیاں‘ گلی اور محلہ جات میں تاریکی ‘ برقی ‘ آبرسانی کے علاوہ دیگر کئی مسائل ہیں جن کا حل کئے جانے کی صورت میں حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے حالات تبدیل ہوسکتے تھے لیکن ان مسائل پر عدم توجہی اور ان مسائل کا شکار دو نسلوں کے گذرجانے کے باوجود اس حلقہ اسمبلی میں نہ ہوئی سرکاری جونئیر کالج ہے نہ ہی ڈگری کالج اور نہ ہی کوئی سرکاری دواخانہ اس حلقہ اسمبلی میں ہونے کے سبب حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے عوام کو مجبوری میں خانگی دواخانوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کی نمائندگی کرنے والے جناب سید احمد پاشاہ قادری کو مجلس نے تبدیل کرتے ہوئے ان کی جگہ رکن اسمبلی نامپلی جناب جعفر حسین معراج کو حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے امیدوار بنایا ہے اور اپنے امیدوار کی کامیابی کے لئے مجلسی قیادت کوشش کررہی ہے جبکہ عوام کا کہناہے کہ جعفر حسین معراج غیر مقامی ہونے کے علاوہ نامپلی میں ان کی کارکردگی سے ناراضگی کی وجہ سے انہیں یاقوت پورہ منتقل کیاگیا ہے اسی لئے عوام میں ان کے متعلق منفی رجحان زیادہ پایا جانے لگا ہے۔ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے عوام کا کہنا ہے کہ اب وہ دور نہیں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یہ کہے کہ ’’کھمبے سے گدھے کو باندھ دیں تو ووٹ حاصل ہوجائیں گے‘‘ عوام کا احساس ہے کہ مجلسی قیادت نے حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے امیدوار کے انتخاب میں غلطی کی ہے ۔رائے دہندوں کا کہناہے کہ گذشتہ دو انتخابات کے دوران تلنگانہ راشٹرسمیتی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے سخت مقابلہ کرنے کی ناکام کوشش کرلی ہے اور انہیں اب اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو کبھی کامیابی نہیں مل سکتی اسی لئے حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں مجلسی امیدوار کا راست مقابلہ مجلس بچاؤ تحریک کے امیدوار جناب محمد امجد اللہ خان خالد سے ہے جو مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان ہیں ۔ ایم بی ٹی قائد امجد اللہ خان حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے مسائل بالخصوص تعلیم ‘ معیشت اور صحت کے مسائل کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل کو انتخابی موضوع بناتے ہوئے میدان میں اترے ہیں ۔حلقہ یاقوت پورہ کے عوام کا کہنا ہے کہ اگر مجلس کے ارکان اسمبلی کو عوام کے درمیان ان کی خدمت میں مصروف رکھنا ہو تو یہ ضروری ہے کہ مجلس بچاؤ تحریک کے ایک رکن اسمبلی کو منتخب کروانا ضروری ہے ۔امجد اللہ خان خالد اپنی انتخابی مہم کے دوران علاقہ کے بنیادی مسائل کے ساتھ ساتھ ان کے ’پرجا دربار‘ میں جن مسائل سے انہیں واقفیت حاصل ہوئی ہے ان کو عوام کے درمیان پیش کرتے ہوئے وہ ان سے اپیل کر رہے ہیں کہ ایم بی ٹی امیدوار کی کامیابی کو یقینی بنائیں۔حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے بزرگ شہریوں کا کہناہے کہ اس حلقہ کی طویل مدت تک نمائندگی کرنے والے سابق رکن اسمبلی ممتاز احمد خان کو دو نسلوں نے ووٹ دیتے ہوئے کامیاب بنایا اور انہیں بھی ووٹ محض جماعت کے نام پر دیئے گئے لیکن اس کے باوجود جماعت نے حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں سرکاری سہولتوں کی فراہمی غریب عوام کے مفت علاج کے لئے کوئی دواخانہ ‘ نوجوانوں کی تعلیم کے لئے کوئی جونئیر یا ڈگری کالج کے قیام کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے بلکہ جو امدادی کالجس حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں تھے انہیں بھی بند کردیا گیا جس کے نتیجہ میں حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں غریب لڑکیوںاور لڑکوں کی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں ہوپارہا ہے جس کے نتیجہ میں حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کی خواندگی کے فیصد میں بھی کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوپایا ہے۔غنڈہ عناصر کی سرگرمیوں اور سود خوروں کی سرگرمیاں بھی اس علاقہ میں جوں کی توں برقرار ہیں جو کہ علاقہ میں نوجوانوں کی بے راہ روی میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں مجلس اتحادالمسلمین اور مجلس بچاؤ تحریک کے درمیان موجود اس مقابلہ کے نتیجہ میں دیگر کوئی سیاسی جماعت جیسے بھارت راشٹرسمیتی ‘ بھارتیہ جنتا پارٹی یا کانگریس کے امیدواروں کی کہیں کوئی انتخابی مہم بھی نظر نہیں آرہی ہے اور نہ ہی ان سیاسی جماعتوں کے امیدوار حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ پر سنجیدگی سے مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ شہر کے بیشتر تمام حلقہ جات اسمبلی کے رائے دہندوں کی نظریں حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کے عوام پر ہیں اور وہ یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یاقوت پورہ کے عوام اس مرتبہ تبدیلی کی لہر کو ووٹ میں تبدیل کرتے ہیں یا نہیں!