حلقہ ملک پیٹ ترقی میں پیچھے، رکن اسمبلی کے کاروبار میں تیزی سے اضافہ

   

کانگریس امیدوار شیخ اکبر کو ایم ایل اے منتخب کرنے پر عوام کے ساتھ رہنے کا عزم

حیدرآباد۔18۔نومبر(سیاست نیوز) حکومت کے حلیف ہونے کے باوجود جو حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کی ترقی کروانے سے قاصر رہے ہیں ان سے عوام اب کیا امیدیں وابستہ کرسکتی ہیں!تشکیل تلنگانہ کے بعد سے حکومت کے ساتھ رہنے کے باوجود حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کو ہر معاملہ میں نظرانداز کردیا گیا اور حکومت نے حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کے عوام سے جو وعدے کئے تھے ان پر عمل آوری کروانے میں تک مقامی رکن اسمبلی ناکام ہوچکے ہیں لیکن رکن اسمبلی کے کاروبار تیزی سے فروغ پارہے ہیں ۔کانگریس امیدوار حلقہ اسمبلی ملک پیٹ جناب شیخ اکبر نے کہا کہ ریاست کی تشکیل سے قبل کے سی آر نے چنچل گوڑہ جیل کے علاوہ ملک پیٹ ریس کورس کی منتقلی کا علاقہ کے عوام سے وعدہ کیا تھا لیکن اب تک اس وعدہ پر عمل نہیں کیا لیکن اس وعدہ کے سلسلہ میں خود حلقہ کی نمائندگی کرنے والے رکن اسمبلی کی جانب سے کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ جناب شیخ اکبر نے رکن اسمبلی سے استفسار کیا کہ آیا کبھی انہو ںنے اس مسئلہ پر حکومت سے سوال کیا ہے !اگر نہیں کیا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے وہ عوام کو جواب دیں۔ انہوں نے بتایا کہ عوام اپنی نمائندگی اور علاقہ کی ترقی کے لئے رکن اسمبلی کا انتخاب کرتے ہیں لیکن حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کے عوام کے متعلق رکن اسمبلی ایوان میں سوال کرنے کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے آئے ہیں اور 15سالوں کے دوران حلقہ اسمبلی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے پسماندگی کی راہ پر ڈال دیا گیا ہے۔ انہو ں نے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے نہ صرف حلقہ اسمبلی ملک پیٹ بلکہ پرانے شہر کے تمام حلقہ جات اسمبلی کو نظرانداز کردیا اورعوام اس بات سے اچھی طرح واقف ہیںکہ حکومت تلنگانہ ہی نہیں بلکہ متعلقہ رکن اسمبلی بھی اس کے برابر ذمہ دارہیں۔ جناب شیخ اکبر نے بتایا کہ اگر وہ اس حلقہ اسمبلی سے منتخب ہوتے ہیں تو حکومت کو حلقہ اسمبلی کی ترقی کے معاملہ میں مجبور کرتے ہوئے عوام کے لئے معیاری بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائیں گے اور ممکنہ حد تک مسائل کی فوری طور پر یکسوئی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہوں نے تلنگانہ میں کانگریس کے اقتدار کو یقینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کے ساتھ ہی حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا اور آئندہ 5 برسوں میں ملک پیٹ شہر حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ریاست تلنگانہ کے تمام حلقہ جات اسمبلی میں مثالی حلقہ بن جائے گا۔