حماس، قیدیوں کے تبادلے کے اگلے مرحلہ کیلئے تیار

,

   

نیتن یاہو نے 6 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد فلسطینی قیدیوں کی رہائی روک دی

بیروت / تل ابیب : حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ غزہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے دوسرے مرحلے پر جانے کے لیے تیار ہے۔حماس نے قیدیوں کے تبادلے کے ساتویں راونڈ میں زندہ بچ جانے والے چھ مرد اسرائیلی اسیران کی حوالگی کے حوالے سے ایک تحریری بیان جاری کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔مبینہ طور پر حماس مستقل جنگ بندی اور مکمل اسرائیلی انخلاء کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع تبادلے کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے تیار ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کی فوج کا غزہ میں اپنی شکست سے فرار اور مغربی کنارے میں قتل عام شروع کرنے کی کوشش ہمارے عوام اور مزاحمت کو نہیں توڑ نہیں سکے گی۔اس بات پر زور دیا گیا کہ اسرائیلی قیدیوں کے ساتھ مذہبی تعلیمات اور انسانی اقدار کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے جب کہ اسرائیل جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر طرح طرح کے تشدد کا استعمال کرتا ہے۔اس بات پر زور دیا گیا کہ جنگ بندی معاہدہ کی شقوں کو پورا کرنے میں اسرائیل کی جانب سے بار بار ٹال مٹول کے باوجود حماس نے آج چھ اسرائیلی قیدیوں کی حوالگی کے ساتھ معاہدے کے حوالے سے اپنی وابستگی کی تصدیق کی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر قائم ہیں۔اس بات کا ذکر کیا گیا کہ غزہ کے عوام کی طرف سے قیدیوں کے حوالے کرنے کی تقریب میں بھرپور دلچسپی نے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ عوام اور مزاحمت کے درمیان ایک گہرا اور مضبوط اتحاد ہے۔دریں اثناء اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حماس کی جانب سے رہا کیے جانے والے 6 یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی طے شدہ رہائی کو موخر کردیا ہے۔ حماس نے گزشتہ روز جنگ بندی معاہدے کے تحت 6 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا تھا جس کے بدلے اسرائیل کو بھی 600 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا تھا مگر اب اسرائیلی وزیراعظم نے فسلطینی قیدیوں کی رہائی کو موخر کردیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حماس کی طرف سے بار بار کی جانے والی خلاف ورزیوں جس میں ہمارے قیدیوں کی عزت کو مجروح کرنے والی تقریبات اور پروپیگنڈے کے لیے ان کا مذموم سیاسی استعمال بھی شامل ہیں ان کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزیدکہا کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی اس وقت تک موخر کی ہے جب تک ہمارے اگلے قیدیوں کی رہائی عزت کو مجروح کرنے والی تقریبات کے بغیر نہیں ہوتی۔ واضح رہے نیتن یاہو کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی میں کئی گھنٹے تاخیر کے بعد یہ بیان جاری کیا جبکہ دوسری جانب فلسطین کے مغربی کنارے میں تاحال سیکڑوں خاندان سالوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید اپنے پیاروں رہائی کی رہائی کی امید لیے ان کا انتظار کررہے ہیں۔