بیروت ۔ 9 جنوری (ایجنسیز) حماس نے اعلان کیا ہیکہ وہ مختلف شعبوں میں غزہ پٹی کے امور کی نگرانی کیلئے آزاد فلسطینی شخصیات پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل شروع کرنے کا انتظار کر رہی ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک پریس بیان میں کہا کہ حماس اور فلسطینی گروپس نے پٹی کے انتظام کیلئے ایک آزاد کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اختیارات کی منتقلی کے عمل کو آسان بنانے اور کمیٹی کی جانب سے اپنے فرائض کی انجام دہی کو یقینی بنانے کیلئے کام کرے گی۔حازم قاسم نے واضح کیا کہ حماس نے پہلے ہی اپنا موقف طے کر لیا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی کے انتظام سے متعلق کسی بھی مستقبل کے انتظامی انتظامات میں حصہ نہیں لے گی۔ اسی تناظر میں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہیکہ مصری دارالحکومت قاہرہ اگلے ہفتے حماس کے ایک وفد کی میزبانی کرے گا تاکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے اور پٹی کے انتظام کیلئے کمیٹی کے مجوزہ ناموں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔فلسطینی گروپس نے گزشتہ برس مارچ میں قاہرہ میں منعقدہ اجلاسوں کے دوران ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت غزہ پٹی کے رہنے والے آزاد افراد پر مشتمل ایک عارضی انتظامی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو ایک مخصوص مدت کیلئے خدماتی اور انتظامی امور کی نگرانی کرے گی۔ گزشتہ اتوار کو قاہرہ میں فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ کی سربراہی میں ایک فلسطینی وفد کے ساتھ ملاقاتیں بھی ہوئیں جن میں غزہ پٹی اور مغربی کنارے کی صورتحال کے ساتھ ساتھ جنگ بندی معاہدہ کے دوسرے مرحلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا جس کے پہلے مرحلے میں فریقین کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ، انسانی امداد کی ترسیل اور پٹی کے کچھ علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل کیا گیا تھا۔منصبوبے کے دوسرے مرحلے سے متعلق تجاویز میں غزہ پٹی سے مکمل اسرائیلی انخلا، تعمیر نو کے عمل کا آغاز، ایک عبوری حکمران ادارے کی تشکیل اور حماس کے غیر مسلح ہونے کا معاملہ شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دسمبر 2025 کے آخر میں اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کو جلد از جلد نافذ کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے زور دیا تھا کہ حماس کا غیر مسلح ہونا سیاسی عمل میں آگے بڑھنے کیلئے ایک بنیادی شرط ہے۔
