حماس اور پوٹن جمہوریتوں کو ’ریزہ ریزہ‘ کرنا چاہتے ہیں: بائیڈن

,

   

یوکرین جنگ اور اب اسرائیل ۔ حماس جنگ سے خطہ میں عدم استحکام، امریکی صدر کا قوم سے خطاب

واشنگٹن : امریکی صدر کا کہنا تھا کہ حماس اور پوٹن دونوں ہی اپنی پڑوسی جمہوریتوں کو ’’ریزہ ریزہ ‘‘کردینا چاہتے ہیں۔ بائیڈن نے حماس کے خلاف اسرائیل کی لڑائی اور یوکرین کے دفاع کیلئے امریکی عوام سے 100ارب ڈالر کی فوجی امداد کی اپیل کی۔ایسے وقت میں جب اسرائیل حماس جنگ سے خطے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے اور یوکرین میں بھی جنگ جاری ہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کی رات اوول آفس سے قوم کو خطاب کیا۔یہ خطاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد اوول آفس سے کی جانے والی یہ ان کی دوسری تقریر تھی اور خود امریکہ میں بھی اسرائیل حماس تنازع کی حمایت اور مخالفت میں مظاہرے جاری ہیں۔ جو بائیڈن نے حماس کے خلاف اسرائیل کی لڑائی اور روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کیلئے امریکی کانگریس اور امریکی سے عوام مزید مالی مدد مانگنے کیلئے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ‘جمہوریت کے دشمنوں ‘ سے لڑ رہے ہیں۔بائیڈن نے کہا کہ” گوکہ حماس اور پوٹن مختلف خطرات کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن دونوں میں ایک چیز مشترک ہے کہ دونوں ہی اپنی پڑوسی جمہوریتوں کو پوری طرح ملیا میٹ کردینا چاہتے ہیں۔” امریکی صدر نے کہا کہ وہ “حماس جیسے دہشت گردوں اور پوٹن جیسے ظالموں کو جیتنے نہیں دیں گے۔”انہوں نے مزید کہا کہ اگر بین الاقوامی جارحیت کو جاری رہنے دیا جاتا ہے اور جارحیت کرنے والے کامیاب ہوجاتے ہیں، تو ہو سکتا ہے کہ دوسروں کو دنیا کے دوسرے حصوں میں تنازعات کو پھیلانے کیلئے اسی طرح کی کوشش کرنے کی حوصلہ افزائی ہو۔”صدر بائیڈن نے کہا کہ اس طرح کی جارحیت کو روکنا نہ صرف امریکہ بلکہ وسیع تر دنیا کی سلامتی کیلئے بھی ضروری ہے۔اپنی دس منٹ کی تقریر کے دوران جو بائیڈن نے کہا کہ “امریکی قیادت وہ ہے جو دنیا کو متحد رکھتی ہے۔ امریکی اتحادی وہ ہیں جو ہمیں، امریکہ کو، محفوظ رکھتے ہیں۔ امریکی اقدار ہی ہمارے ساتھ کام کرنے کی خواہش مند دوسری قوموں کو ہمارا شریک کار بناتے ہیں۔”بائیڈن آج جمعے کے روز امریکی کانگریس میں 100بلین ڈالر کے ہنگامی امدادی پیکج کی درخواست کریں گے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس کا بڑا حصہ یوکرین کی روس کے خلاف جنگ کیلئے ہو گا جب کہ حماس کے خلاف اسرائیل کی لڑائی اور ہند بحرالکاہل خطے میں دفاع کیلئے بھی رقم اسی پیکج میں شامل ہو گی۔بائیڈن نے کہا کہ “یہ ایک شاندار سرمایہ کاری ہے جو نسلوں تک امریکی سلامتی کیلئے منفغت بخش ثابت ہوگی۔”انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور یوکرین کیلئے اپنی جنگوں میں کامیابی حاصل کرنا “امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے بھی انتہائی ضروری” ہے۔بائیڈن نے امریکی قوم سے یہ خطاب اسرائیل کے اپنے دورے کے ایک دن بعد کیا۔ جہاں انہوں نے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو سے ملاقات کی اور اسرائیل کو مکمل امریکی امداد کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تاہم دوسری طرف فلسطینیوں کی ہلاکت پر ‘افسوس’ بھی اظہار کیا تھا۔
گولڈا میئر نے مجھے اسرائیل کے پاس خفیہ ہتھیار کے بارے میں بتایا تھا: بائیڈن

واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن نے انکشاف کیا ہے کہ سابق اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا میئر نے کئی سال قبل ان پر اسرائیلیوں کی طاقت کا راز افشا کیا تھا جب وہ سینیٹر تھے۔ انہوں نے چہارشنبہ 18 اکتوبر کو اپنے دورہ اسرائیل کے موقع پر ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گولڈا میئر نے مجھے بتایا کہ ہمارے لیے خوفزدہ نہ ہوں، کیونکہ ہمارے پاس ایک خفیہ ہتھیار ہے۔ یہ ایسا ہتھیار ہے جس کو رکھنے کیلئے ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں ہے۔بائیڈن نے سامعین کو کہانی سناتے ہوئے کہا کہ جب وہ نوجوان سینیٹر تھے اور 1973 کی اکتوبر جنگ کے دوران گولڈا میئر سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی جہاں وہ ایک نقشہ دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے اچانک میری طرف دیکھا اور مجھ سے پوچھاکہ کیا آپ آپ اس کی تصویر لینا پسند کریں گے۔ میں نے اس طرف دیکھا جہاں فوٹوگرافروں کا ایک گروپ موجود تھا۔ گولڈا میئر نے مجھے سے کہا ’’ کیا ہوا سینیٹر بائیڈن آپ پریشان لگ رہے ہیں؟میں نے جواب دیا یقیناً، میں پریشان ہوں۔” انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا “فکر نہ کریں سینیٹر، ہم اسرائیلیوں کے پاس ایک خفیہ ہتھیار ہے۔اس موقع پر امریکی صدر نے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کی تجدید کی۔ انہوں نے کہا کہ حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو شروع کیے گئے “وحشیانہ” حملے کا کوئی جواز یا عذر نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں اسرائیل کیلئے امریکہ کی حمایت کی تصدیق کرنے اور موجودہ خطرے کے پیش نظر اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونے کیلئے آیا ہوں۔ میری انتظامیہ اسرائیل کے ساتھ کھڑی رہے گی۔گزشتہ چند دنوں کے دوران امریکہ نے اپنے وزیر خارج بلنکن کے ذریعے حماس کے زیر حراست قیدیوں کے معاملے کو حل کرنے میں اپنا سارا وزن جھونک دیا ہے۔بلنکن غزہ تک امداد پہنچانے کیلئے رفح کراسنگ کو کھولنے میں بھی سرگرم رہے۔
قاہرہ نے 7 اکتوبر سے محصور غزہ کی پٹی میں امدادی قافلوں کو لانے کیلئے عارضی جنگ بندی اور محفوظ راہداریوں کی فراہمی کی شرط رکھی تھی۔ یاد رہے اسرائیل نے اس سے قبل امداد کے داخلے اور غزہ پر محاصرہ ختم کرنے کو تمام قیدیوں کی رہائی سے جوڑا تھا۔