امریکی صدر کی جانب سے متعدد بار یہ باور کرایا جاچکا ہے کہ غزہ پٹی میں حماس کیلئے کوئی جگہ نہیں، میڈیا سے حماس کی بات چیت
بیروت : فلسطینی تنظیم حماس کے ترجمان قاسم امین نے العربیہ نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ … تنظیم کی قیادت کا غزہ پٹی سے جانا نا قابل قبول امر ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے حماس کو ’’آخری تنبیہ‘‘کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ “فوری طور پر” تمام زندہ اور مردہ یرغمالیوں کو آزاد کر دے اور تنظیم کی قیادت غزہ پٹی سے کوچ کر جائے۔ ساتھ ہی غزہ پٹی کی آبادی کو دھمکی دی گئی کہ “اگر آپ لوگوں نے یرغمالیوں کو اپنے پاس باقی رکھا” تو آپ کو موت کی نیند سلا دیا جائے گا۔یہ دھمکی واشنگٹن کی اس تصدیق کے بعد سامنے آئی کہ اس نے فلسطینی تنظیم کے ساتھ براہ راست رابطے کیے ہیں۔یاد رہے کہ امریکی صدر کے ایلچی کی جانب سے ایک سے زیادہ بار یہ باور کرایا جا چکا ہیکہ غزہ پٹی یا مقبوضہ مغربی کنارے میں حماس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔جمعرات کے روز روئٹرز نیوز ایجنسی نے دو مصری ذرائع کے حوالے سے تصدیق کی تھی کہ بدھ کی شام امریکی صدر کے ایلچی کی حماس کی قیادت کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی۔ اس میں قاہرہ اور دوحہ کے وساطت کاروں نے بھی شرکت کی۔دونوں ذرائع نے باور کرایا کہ بات چیت مثبت طور پر اختتام پذیر ہوئی اور واضح ہوتا ہے کہ غزہ فائر بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کی جانب جلد منتقل ہوا جائے گا۔امریکا نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ اس نے اسرائیل کی مشاورت سے فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ براہ راست خفیہ رابطے کیے۔یاد رہے کہ امریکا حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔وائٹ ہاؤس کی خاتون ترجمان کیرولائن لیوٹ سے جب حماس کے ساتھ براہ راست رابطوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ “قیدیوں کے امور سے متعلق امریکی خصوصی ایلچی ایڈم بوہلر مذاکرات میں شریک تھے، وہ کسی سے بھی بات چیت کا اختیار رکھتے ہیں … یہ رابطے اسرائیل کے ساتھ مشاورت کے بعد کیے گئے۔حماس کا ایک ذمے دار بھی امریکی نمائندے کے ساتھ براہ راست رابطوں کی تصدیق کر چکا ہے۔انگریزی ویب سائٹ axios کے مطبق امریکی خصوصی نمائندے نے گذشتہ ہفتوں کے دوران میں قطر کے دار الحکومت دوحہ میں حماس کے ساتھ مشاورت انجام دی۔ بات چیت میں پانچ امریکی قیدیوں کی رہائی پر توجہ مرکوز تھی جو اس وقت غزہ کی پٹی میں حماس کے قبضے میں موجود ہیں۔ ان میں سے چار کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ پانچویں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ زندہ ہے۔