جکارتہ : ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ “ہم فلسطین تحریک مزاحمت ‘حماس’ پر یک طرفہ پابندیوں کو قبول نہیں کریں گے”۔انور ابراہیم نے، امریکی اسمبلی کے بعد سینٹ کی منظوری کے منتظر، “حماس کے لئے بین الاقوامی فنانسنگ کے سدّباب کا قانون” نامی بِل کے بارے میں پارلیمنٹ کو تحریری جائزہ ارسال کیا ہے۔جائزے میں انہوں نے کہا ہے کہ ملائیشیا حکومت مذکورہ قانونی بِل پر بغور نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ ملائیشیا، صرف حماس یا پھر اسلامی جہاد کے ساتھ تعاون ثابت ہونے کی صورت میں ہی، اس قانون سے متاثر ہو سکتا ہے۔وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ہم امریکہ کی یک طرفہ پابندیوں کو قبول نہیں کریں گے۔واضح رہے کہ ملائیشیا، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں رکھتا اور ہر موقع پر مسئلہ اسرائیل۔فلسطین کے دو حکومتی حل پر زور دیتا ہے۔حماس کے عسکری وِنگ عز الدین القاسم بریگیڈ نے، اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم اور مسجد اقصیٰ سمیت تمام مقدسات کی بے حرمتیوں کے جواب میں، 7 اکتوبر کو وسیع پیمانے کے حملوں کا آغاز کیا تھا جس کے جواب میں ا سرائیل نے بھی غزّہ پر بھاری بمباری شروع کر دی تھی۔