حماس چیف قسیم صالح لندن کونسل کے گھر میں مقیم!

   

لندن :مغربی کنارے میں گروپ کی کارروائیاں چلانے والے مفرور حماس کے چیف کو برطانوی پاسپورٹ دیا گیا تھا اور اس نے حال ہی میں £112,000 ڈسکاؤنٹ کے ساتھ ایک گھر خریدا ہے۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق محمد قسیم صالح نے برطانوی شہریت حاصل کرنے کے بعد حماس کے لیے کام جاری رکھا۔ مغربی کنارے میں عسکری کارروائیاں اور اس کے حکمران ادارے پر خدمات انجام دینے والا یہ شخص لندن میں کونسل کی ایک جائیداد میں مقیم ہے جسے اس نے حال ہی میں رعایتی قیمت پر خریدا تھا۔ محمد قسیم صالح اپنے ایک رشتہ دار کے پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کی سیکیورٹی سرویسز سے بچ کر 1990 کی دہائی میں برطانیہ فرار ہو گئے تھے۔ بعد میں انہوں نے برطانوی شہریت حاصل کرلی تھی۔2004 میں امریکی محکمہ انصاف کے فرد جرم کے مطابق 62 سالہ سوالحہ نے حماس کے لیے کام کرنا جاری رکھا۔ اسرائیل میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور غزہ اور مغربی کنارے میں سرگرمیوں کی حمایت کے لیے انہوں نے منی لانڈرنگ میں مدد کرنے کیلئے خفیہ بات چیت کی۔ 2019 میں انہوں نے ماسکو میں حماس کے ایک سرکاری وفد میں حصہ لیا تھا جہاں انہوں نے ولادیمیر پوتن کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور حماس کے پولٹ بیورو میں خدمات انجام دیں۔ اس طرح حماس کی عسکری کارروائیاں چلانے والایہ شخص اب شمالی لندن کے ایک کونسل ہاؤس میں رہتا ہے۔ شمالی لندن میں ایک منزلہ گھر ہے جہاں وہ اپنی بیوی ساوسن 56 کے ساتھ رہتا ہے۔کونسل کے لیڈر بیری رالنگز نے کہا کہ وہ ‘یہ سوچ کر خوفزدہ ہیں کہ صالح ہمارے درمیان رہ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا دیگر کے ساتھ رابطہ کریں گے جن میں پولیس اور حکومت اس کیس کی مکمل تاریخ کا جائزہ لے گی اور تمام مناسب کارروائی کرے گی۔کونسل کو صالح کے پس منظر کے بارے میں 2020 میں مہم گروپ یوکے لائرز فار اسرائیل کی طرف سے مطلع کیا گیا تھا اور انہوں نے یہ معلومات میٹ پولیس کاؤنٹر ٹیررازم یونٹ کو بھیج دی تھی۔