غزہ:اسلامی تحریک مزاحمت (حماس)نے اسرائیل کومجرم ملک قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر اسرائیلی ریاست کی عسکری اور سیاسی لیڈرشپ کو کٹہرے میں لایا جائے اور ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے 1948 ء میں منظور کئے گئے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی سالگرہ کے موقع پر ایک بیان میں حماس نے زور دیا کہ یہ دن فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے اور جرائم کے حجم کو اجاگر کرنے کا ایک موقع ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کا جشن ایک اہم موقع ہے جو دنیا کو اس کی ذمہ داریوں کی یاد دلاتا ہے۔ قابض ریاست کی خلاف ورزیوں اور اس کے آباد کاروں کی دہشت گردی کوجرم قرار دینے کے لیے سنجیدہ کارروائی کرنا اور انہیں ہر طرح سے روکنے کے لئے کام کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کا جشن ایک ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب قابض کی دہشت گردی اور فلسطینی عوام کے خلاف اس کی منظم خلاف ورزیاں، جان بوجھ کر قتل، بستیوں پر تجاوزات اور زمین کی چوری کی صورت میں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔حماس نے کہا کہ قابض ریاست کے جرائم انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔