حماس کا حملہ ہماری ناکامی، بنجامن نتن یاہوکا اعتراف

   

تل ابیب:اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کا آج 20 واں دن ہے۔ دریں اثنا، پہلی بار اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ اسرائیل 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے کو روکنے میں ناکام رہا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کو نہ روکنے پر مستقبل میں میرے ساتھ سب کو جواب دینا پڑے گا۔اسی دوران اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ چہارشنبہ کی رات ٹینکوں کے ساتھ شمالی غزہ میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے حماس کے متعدد ٹھکانوں اور راکٹ لانچنگ پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکہ کے مشورے کو قبول کرتے ہوئے زمینی حملے کو کچھ وقت کے لیے ملتوی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے غزہ پر اسرائیل کے حملے کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل حماس پر جو حملے کر رہا ہے اس کے پیچھے امریکہ ہے۔غزہ میں ہونے والے جرائم کی ہدایت امریکہ کر رہا ہے۔ امریکہ کے ہاتھ بچوں، خواتین اور بہت سے لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ امریکہ مجرموں کا اتحادی ہے۔اسی دوران امریکی صدر بائیڈن نے چہارشنبہ کی رات نیتن یاہو سے فون پر بات کی۔ دونوں کے درمیان سب سے پہلے یرغمالیوں کو بازیاب کرانے پر اتفاق ہوا۔ دونوں نے غزہ سے غیر ملکی شہریوں کے محفوظ انخلاء پر بھی بات چیت کی۔ بائیڈن نے نیتن یاہو سے جنگ کے درمیان دیرپا امن کا راستہ تلاش کرنے کو کہا۔نتن یاہو نے جنگ کے درمیان چہارشنبہ کو ایک بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہمارے وجود کی لڑائی ہے اور اسے جیتنا ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ حماس کے خاتمے اور یرغمالیوں کو آزاد کرانے کیلئے جلد ہی غزہ میں زمینی کارروائی کی جائے گی۔ 7 اکتوبر ہماری تاریخ کا سیاہ دن تھا۔نیتن یاہو نے کہا کہ ہم جنوبی سرحد اور غزہ کے قریب علاقے میں جو کچھ ہوا اس کی تہہ تک جائیں گے۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اس جنگ کو جیتنے میں ملک کی مدد کروں۔