حماس کا فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار ڈالنے سے انکار

,

   

فلسطین کا دارالحکومت یروشلم ہونا چاہیئے ، 140 سے زائد ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرچکے ہیں

بیروت : 3اگست ( ایجنسیز) حماس نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام تک وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے گی۔برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق حماس نے ہفتہ کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ’مزاحمت اور ہتھیار‘ رکھنے کے اپنے حق کو اس وقت تک ترک نہیں کرے گی جب تک کہ ’ایک آزاد اور مکمل خودمختار فلسطینی ریاست‘ قائم نہیں کر دی جاتی جس کا دارالحکومت یروشلم ہو۔اسرئیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے ہونے والے بالواسطہ مذاکرات گذشتہ ہفتے تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔منگل کو قطر اور مصر جو جنگ بندی کی کوششوں میں ثالثی کر رہے ہیں، نے فرانس اور سعودی عرب کے اس اعلان کی توثیق کی جس میں اسرائیل فلسطین تنازعہ کے دو ریاستی حل کے لیے اقدامات کا خاکہ پیش کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ حماس اپنے ہتھیار مغربی حمایت یافتہ فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دے۔سعودی عرب اور فرانس نے منگل کو اقوام متحدہ میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں غزہ میں جنگ کے فوری خاتمہ پرزور دیا گیا۔ اسرائیل، فلسطین تنازعہ کے دو ریاستی حل کے نفاذ کیلیے ایک تفصیلی روڈ میپ کی وضاحت کی گئی ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ مصر قطر اور امریکہ کی ثالثی میں فوری طور پرایک مرحلہ وارجنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ پر زور دیا گیا تاکہ لڑائی کا ختم ہوسکے، یرغمالیوں کی بحفاظت رہائی کو یقینی بنایا اور اسرائیلی فوجیوں کا غزہ سے انخلا ممکن بنایا جائے۔اسرائیل حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کو تنازعہ کے خاتمہ کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنے کی اہم شرط سمجھتا ہے تاہم حماس بارہا کہہ چکی ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہے۔گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے مستقبل کی کسی بھی آزاد فلسطینی ریاست کو اسرائیل کو تباہ کرنے کا پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہی وجہ ہے کہ فلسطینی علاقوں پر سکیورٹی کنٹرول اسرائیل کے پاس ہی رہنا چاہیے۔انہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے کا اعلان کرنے پر برطانیہ اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس اقدام کو حماس کے طرز عمل کا انعام قرار دیا۔140 سے زائد ممالک پہلے ہی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر چکے ہیں۔سعودی عرب طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کا حامی رہا ہے اور اس نے اسرائیل کے حملوں کی بارہا مذمت کی ہے۔