حماس کیخلاف جنگ میں حمایت ، امریکی وزیر خارجہ کا اسرائیل کا دورہ

,

   

تل ابیب : اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعرات کو جنگ مزید شدّت اختیار کر گئی ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے اسرائیل کا دورہ کر کے مکمل یکجہتی اور فلسطینی شہریوں کے تحفظ کیلئے تحمل مزاجی سے کام لینے پر زور دیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق حماس کے عسکریت پسندوں نے 1200 اسرائیلی شہریوں کو ہلاک کر کے تقریباً 150 افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے جس کے بعد اسرائیلی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حماس کو نشانہ بنایا۔چھ دنوں میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں کیے جانے والے جوابی حملوں میں 1200 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔بنجامن نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں حماس کو داعش سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہا کہ ’حماس کا ہر رکن ایک مردہ شخص ہے۔‘ انہوں نے عسکریت پسند تنظیم کو ’کچل کر تباہ کرنے‘ کے عزم کا اظہار کیاامریکی صدر جو بائیڈن جنہوں نے اسرائیل کی بھرپور حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے فوجی امداد بھیجنا شروع کر دی ہے، نے بھی خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو ’تمام غصے اور مایوسی کے باوجود جنگ کے اْصولوں کو مدّنظر رکھنا چاہیے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ’تشدد اور دہشت کے سلسلے‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام یرغمالیوں کی رہائی اور محاصرہ ختم کرنے پر زور دیا۔ اسرائیلی وزیر توانائی اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو اس عزم کا اظہار کیا کہ غزہ کا مکمل محاصرہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مغویوں کی رہائی نہیں ہو جاتی۔