اڈانی ۔اسرائیل وینچر کے ہتھیاروں سے معصوم فلسطینیوں کا قتل عام
حیدرآباد۔13فروری(سیاست نیوز) حماس کیخلاف جاری اسرائیلی کاروائیوں میں حیدرآباد میں تیار کئے گئے ڈرون استعمال کرتے ہوئے معصوم فلسطینیوں کو قتل کیا جا رہاہے!شہر حیدرآباد میں اڈانی ۔ایلبٹ اڈوانسڈ سسٹم انڈیا لمیٹڈ جو کہ اڈانی ڈیفنس اور ایر اسپیس کے تعاون و اشتراک سے UAV تیار کئے گئے ہیں ان میں 20 سے زیادہ حرمس 900میڈیم آلٹیٹیوڈ جو کہ طویل نشانہ لگانے کے اہل ہیں وہ اسرائیل کو روانہ کئے جاچکے ہیں۔عالمی ذرائع ابلاغ بالخصوص اسرائیلی ذرائع ابلاغ ادارہ نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ حیدرآباد میں تیار کئے گئے UAVحماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں استعمال کئے جار ہے ہیں۔ مذکورہ حرمس 900 جو کہ زمین پر موجود نشانہ پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کا استعمال کیا جا رہاہے۔حیدرآباد میں موجود اڈانی ۔ ایلبٹ اڈوانسڈ سسٹم انڈیا لمیٹڈ اور اسرائیل ایلبٹ سسٹم نے اسرائیل کے باہر ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے کا پہلا یونٹ قائم کیا تھا جس کا 14 ڈسمبر 2018 کو سابق ریاستی وزیر داخلہ محمد محمود علی نے افتتاح انجام دیا تھا۔ اسرائیل جن ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے ان میں یہ UAV بغیر کسی فرد کے چلائی جانے والی فضائی حملہ کی صلاحیت رکھنے والی مشین جو کہ جہاز کے طرز کی ہے اس کی تیاری حیدرآباد میں ایلبٹ سسٹم لمیٹڈ کے ذریعہ تیار کی گئی ہے جو کہ اسرائیلی کمپنی ہے جو کہ عالمی سطح پر ملٹری ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام کو مستحکم بنانے کے لئے کام کرتی ہے۔ریاست تلنگانہ میں تیار کئے جانے والے 20 ایسے UAV اب تک اسرائیل کو فراہم کئے جانے کی اطلاعات کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ اداروں میں اس کا تذکرہ اور اس پر مباحث شروع ہوچکے ہیں۔ سابق حکومت کے دورمیں شروع کی گئی اس کمپنی کی طیارہ سازی کی صنعت کو آئندہ مزید تیزی کے ساتھ فروغ حاصل ہونے کا امکان ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے 50 ہزار مربع فیٹ پر قائم کی گئی اڈانی کی اس سہولت سے اشتراک کرتے ہوئے ایلبٹ نامی دفاعی و ملٹری ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی کمپنی کی جانب سے یہ بغیر انسان کے چلائے جانے والے جنگی جہاز تیار کئے جا رہے ہیں جو کہ اسرائیل کو فراہم کئے جاچکے ہیں۔3