حماس کے ساتھ مذاکرات بھی جاری رہیں گےاسرائیلی وفد مذاکرات کیلئے جائے گا: نیتن یاہو

   

تل ابیب: حماس کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگی دباؤ جاری رکھنے پر مسلسل زور دینے والے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز کہا ہے کہ حماس کے ساتھ مذاکرات کیلئے اسرائیلی وفد کو بھیجیں گے۔ یہ وفد جمعرات کو مذاکرات کا حصہ بنے گا۔نیتن یاہو کے دفتر کی طرف سے اس بارے میں باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی وفد کو حکم دیا ہے کہ وہ جمعرات کو مذاکرات کیلئے جائیں ۔یہ بیان نیتن یاہو کی مذاکرات کرنے والے اسرائیلی وفد اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اتوار کے روز ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مذاکرات کا اگلا دور کس ملک میں ہو گا۔خیال رہے بین الاقوامی عدالت انصاف کے 19 جولائی کو جاری کیے گئے فیصلہ میں اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ اور وہاں یہودی بستیاں قائم کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بین الاقوامی فوجداری عدالت نے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے امور کی تفتیش کرنے کیلئے نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کیلئے وارنٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔
جس کی طفیل نیتن یاہوکو ایک بار پھر کانگریس سے خطاب کی دعوت ملی کہ فوجداری عدالت کچھ بھی کہتی رہے امریکی کانگریس نیتن یاہو کے ساتھ کھڑی ہے۔