انقرہ ؍ برلن : حماس اور اسرائیل کے مابین تنازعہ پر اختلافی موقف کے سبب برلن اور انقرہ کے مابین تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے۔ ترکی حماس کو حریت پسند جبکہ جرمنی ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردغان جمعہ کے روز ایک مختصر دورے پر جرمن دارالحکومت برلن پہنچے۔ وہ جرمن چانسلر اولاف شولس اور صدر فرانک والٹر اشٹائن مار سے ملاقاتیں کریں گے۔ ترک رہنما یہ دورہ ایک ایسے وقت پر کر رہے ہیں، جب ترکی اور جرمنی کے مابین تعلقات اپنی نچلی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعہ پر دونوں ممالک کے نقطہ نظر میں اختلاف ہے۔ اردغان نے اسرائیل پر تنقید اور حماس کا دفاع کرتے ہوئے سخت بیان بازی کا سہارا لیا ہے، جبکہ جرمنی جیسے ترکی کے مغربی اتحادی حماس کو دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔ اردغان نے حال ہی میں انقرہ میں کہا کہ اسرائیل 75 سالوں سے اس زمین پر ایک ریاست قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو فلسطینی عوام سے چھین لی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی قانونی حیثیت کو اس کے اپنے فاشزم کے ذریعہ سوالیہ نشان بنایا جا رہا ہے۔ ا س کے بعد منگل کو برلن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران جرمن چانسلر اولاف شولس نے اردغان کے تبصروں کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل ایک جمہوریت ہے۔ جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل کے سربراہ جوزف شسٹر نے بھی اردغان پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ جرمنی کی سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں اور جرمنی میں یہودیوں کے خلاف اپنے پروپیگنڈے سے نفسیاتی دہشت گردی کو ہوا دی گئی ہے۔