حمایت ساگر پر پانی دیکھنے کے لیے عوام کا ہجوم

   

سماجی فاصلہ ندارد ، ماسک کا عدم استعمال ، لوگ کورونا وائرس کو بھول گئے !!
حیدرآباد :۔ حمایت ساگر ، جو کہ ایک اہم سیاحتی مقام ہے ، اس تالاب کے دروازے کھولنے کے بعد اس سے پانی کے اخراج کو دیکھنے کیلئے عوام کا ہجوم جمع ہورہا ہے ۔ حمایت ساگر سے دس سال میں پہلی مرتبہ پانی چھوڑا جارہا ہے ۔ اس کی اسٹوریج کپاسٹی اس کی حد کو پہنچنے پر اس تالاب کے 16 کے منجملہ 13 گیٹس کو کھولا گیا ۔ کل شام حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے عہدیداروں نے عوام کو پانی چھوڑے جانے کا نظارہ کرنے کی اجازت دی ۔ یہاں آنے والے لوگوں کو کنٹرول کرنے کیلئے متعین راجندر نگر پولیس کے کانسٹبل کے مہی پال نے کہا کہ اس ڈیم پر پہنچنے کیلئے کلومیٹر طویل راستہ پر عوام کا ہجوم ہورہا ہے ۔ کل سے یہاں عوام کی بڑی تعداد آرہی ہے اور ہم نے انہیں ڈیم کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ آج شام 4 بجے سے انہیں اس کی اجازت دی گئی ۔ مہی پال نے کہا کہ حمایت ساگر پر پانی دیکھنے کیلئے آنے والے ہجوم کو کنٹرول کرنے کیلئے تقریبا 40 پولیس ملازمین کو متعین کیا ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو ۔ اس موقع پر سیلفیز ، فیملی اور گروپ فوٹوز لیے گئے ۔ لوگوں نے ایسا محسوس ہوا کہ یہاں ایک اچھا وقت گذارا ۔ باہر جاتے ہی انہوں نے بنڈیوں پر فروخت کی جانے والی فش فرائی سے لطف اندوز ہوئے ۔ ودیا نگر کے سجاد مرزا بیگ اور تیجا نے کہا کہ مارچ سے کوئی ٹرپس اور ایونٹس نہیں تھے یہاں آکر ہم کو خوشی ہورہی ہے اور یہ ہمارے لیے خوشگوار موقع ہے ۔ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے اصول کو یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بالائے طاق رکھ دیا گیا ، زیادہ تر لوگوں نے ماسک نہیں لگا رکھا تھا ، یہاں کے منظر سے ایسا معلوم ہوا کہ شہر میں کورونا وائرس کی کوئی وبا نہیں ہے ۔ والدین ان کے شیرخوار بچوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کیے بغیر یہاں لے آئے تھے ۔ چند لوگ پانی دیکھنے کیلئے گیٹس کے قریب ڈیم کے نیچے گئے ۔ لنگر حوض کے کمل ساگر نے جو دوستوں کے ساتھ وہاں گئے تھے کہا کہ اس خبر کو سننے کے بعد ہم وہاں جانا اور پانی دیکھنا چاہا ۔ پولیس اس بات کو یقینی بنانے کیلئے انتظامات کررہی ہے کہ لوگ پانی کے بہت قریب نہ جائیں ۔ سائبر آباد کمشنریٹ کے اسپیشل پولیس کانسٹبل کے چندرا کانت نے کہا کہ اب صرف دو گیٹس کھلے ہیں ، کل جب 13 گیٹس کھولے گئے تھے تو عوام کی زیادہ تعداد پانی دیکھنے کے لیے آئی تھی لوگ اب بھی آرہے ہیں ۔ ہم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ وہ پانی کے قریب نہ جائیں ۔۔