حمل کے دوران جنین کی تشخیص قانونی جرم

   

شعور بیداری ضروری ، پداپلی میں محکمہ طب عہدیدار ڈاکٹر پرمود کمار کا خطاب

پداپلی۔ضلعی عہدیدار برائے طب و صحت، پداپلی ڈاکٹر پرمود کمار نے کہا کہ ضلع میں قانون برائے انسداد تشخیص جنین کی عمل آوری کو یقینی بنایا جائے۔ پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی اڈوائزری کمیٹی اجلاس کا ضلعی دفتر برائے محکمہ طب و صحت میں انعقاد عمل میں لایا گیا۔ اس موقع پر ضلعی عہدیدار برائے طب و صحت ڈاکٹر پرمود کمار نے پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی قانون کی اہمیت، اس کے نفاذ اور ضلعی سطح پر پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی اڈوائزری کمیٹی اراکین کی ڈیوٹی اور ذمہ داریوں سے متعلق تفصیلی بیان کیا۔ ضلع میں قابل تجدید اور نئے رجسٹر کئے جانے والے اسکیان سنٹرس کے متعلق تفصیلات دریافت کی گئیں۔ انھوں نے مطلع کیا کہ ضلع میں فی الحال 26 اسکاننگ سنٹرس موجود ہیں۔ ضلع میں جنسی تناسب سے متعلق بیان کرتے ہوئے انھوں نے انتباہ دیا کہ دوران حمل جنین کی تشخیص قانونی جرم ہے۔ ضلع میں کہیں بھی اگر یہ ثابت ہوجائے کہ قبل از پیدائش یا حمل کے دوران جنین کی تشخیص کی گئی ہے، تو پہلی مرتبہ اس جرم کیلئے -/10000 روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور 3 سال کی جیل کی سزا ہوگی، دوسری مرتبہ قانون کی خلاف ورزی پر -/50000 روپئے جرمانہ اور 5 سال کی جیل کی سزا سناتے ہوئے ریاستی میڈیکل کونسل سے متعلقہ ڈاکٹر کے رجسٹریشن کو حذف کردیا جائے گا۔اس موقع پر ڈاکٹر واسو دیوا ریڈی، ضلع ٹی وی وی پی ہسپتال کے کوآرڈینیٹنگ آفیسر ، پداپلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹی وی وی پی ہسپتال کو آنے والی حاملہ خواتین کو لڑکیوں کی پیدائش اور قانون برائے انسداد تشخیص جنین سے متعلق شعور اجاگر کیا جارہا ہے۔ اس اجلاس میں شریک پبلک پراسیکیوٹر ، پداپلی کورٹ، شری راکیش نے کہا کہ اڈوائزری کمیٹی کودرکار قانونی مشورے فراہم کئے جائیں گے۔