حوثیوں کا اسرائیل پر چوتھا حملہ

   

صنعاء ۔ 3 اپریل (ایجنسیز) یمن میں حوثیوں نے جمعرات کو اسرائیل پر ایک نئے حملے کا اعلان کیا، جو ایران پر جاری امریکی و اسرائیلی حملوں کے دوران مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہونے کے اعلان کے بعد سے ان کی چوتھی کارروائی ہے۔حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایک وڈیو بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے ایک فوجی آپریشن کیا ہے جس میں مقبوضہ یافا کے علاقے میں اسرائیلی دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس سے قبل اسرائیلی فوج نے فرانس پریس کو بتایا تھا کہ یمن سے داغے گئے ایک میزائل کی نشان دہی کی گئی ہے اور اسے فضا میں روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گذشتہ جمعے کی شام حوثی ملیشیا نے دھمکی دی تھی کہ وہ جنگ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے فوجی ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اگر ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف واشنگٹن اور تل ابیب کے ساتھ کوئی نیا اتحاد شامل ہوا یا بحیرہ احمر کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کیلئے استعمال کیا گیا، تو وہ براہِ راست فوجی مداخلت کیلئے تیار ہیں۔اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ذکر کیا کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار یمن سے اسرائیل کی جانب ایک میزائل داغا گیا۔گذشتہ پیر کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے یمن سے روانہ کیے گئے دو ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
حوثیوں نے اس سے قبل بھی غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان جنگ کے دوران فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل، بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں بحری جہازوں پر حملے کیے تھے۔ ان کے میزائل اور ڈرون حملوں نے بحیرہ احمر اور باب المندب کے ذریعے ہونے والی جہاز رانی کی نقل و حرکت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔