حوثیوں کی صلاحیتوں کو تباہ کرنا انہیں راستہ بدلنے پر مجبور کر دے گا: امریکہ

   

واشنگٹن: یمن کی صورتحال کے بارے میں امریکی اندازے اس تاثر سے بالکل مختلف ہیں جو حوثی اور ان کے رہنما یمنیوں اور دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی عسکری ذرائع نے گزشتہ چند دنوں میں بڑے اعتماد کے ساتھ کہا ہے کہ خطے میں تعینات امریکی افواج نے خطے میں تعیناتی کا اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔امریکی عسکری ذرائع میں سے ایک نے العربیہ اور الحادث کو بتایا کہ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ حوثی بیلسٹک میزائل اور بغیر پائلٹ کے بحری ڈرون سمیت متعدد میزائل اور ڈرون لانچ کرنے کے قابل تھے۔ اگر حوثی جو اب کر رہے ہیں اور جو وہ دو ماہ پہلے کر رہے تھے کے درمیان موازنہ کریں تو آپ واضح طور پر دیکھیں گے کہ امریکی افواج نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔
اگرچہ اس اس میں کچھ مبالغہ آرائی یا شیخی بھگارنے کا عنصر بھی شامل ہے تاہم سامعین کے لیے اس امریکی دعوے کی حقیقت کو جھٹلانا مشکل ہے۔ کئی ہفتوں سے حوثیوں نے بحیرہ احمر یا خلیج عدن میں کوئی پیچیدہ کارروائی نہیں کی ہے اور نہ ہی انہوں نے ایلات کی بندرگاہ کی طرف میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے اپنے میزائل حملوں کے شروع کے دنوں میں ایسا کیا تھا۔