واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ فلپائن کا ایک ملاح حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں پچھلے ہفتے ہلاک ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ہلاکت کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور اسے دہشتگردی قرار دیا ہے۔ایرانی حمایت یافتہ حوثی پچھلے سال نومبر سے بحیرہ احمر میں اسرائیل اور اس کے اتحادیوں و حامیوں کے جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل جنگ کے خلاف انتقام کے تحت بحری جہازوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے فلپائنی ملاح کی ہلاکت کے حوالے سے کہا کہ ‘وہ یونان کی ملکیت جہاز ایم وی ٹیوٹر پر ہونے والے حوثیوں کے حملے میں زخمی ہوا تھا۔ جس کا غزہ کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔’ جان کربی نے کہا ‘یہ دہشتگردی ہے اور قابل مذمت ہے۔’واضح رہے جہاز پر حملے کے بعد پانی کے تیز بہاؤ کی زد میں آگیا تھا۔ جسے بعد ازاں چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ حملہ بدھ کے روز یمنی بندرگاہی شہر حدیدہ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ یہ جہاز 60 سمندری میل ساحل سے دور تھا۔جان کربی نے اس دوران بتایا سری لنکا سے تعلق رکھنے والے جہاز کے عملے کا ایک رکن جمعرات کے روز زخمی ہوا تھا۔ لیکن یہ ایک الگ واقعہ تھا۔ جان کربی کے بقول ‘سری لنکن شہری پولینڈ کے زیر استعمال ایک یوکرینی جہاز پر تعینات تھا۔ یہ خالص دہشتگردی تھی اور اس کے لیے اس کے علاوہ کوئی لفظ نہیں۔’جان کربی نے امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے حالیہ لگائی گئی پابندیوں کا بھی حوالہ دیا۔ یہ پابندیاں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے والوں پر لگائی گئی ہیں۔