حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب میں تشویش برقرار

   

ریاض ۔ 19 ستمبر (ایجنسیز) سعودی عرب کے محکمہ شہری دفاع نے ہفتہ کے روز ریاض اور دارالحکومت کے مشرق میں واقع شہر الخَرج میں ممکنہ خطرے کے حوالے سے جاری کردہ الرٹ واپس لے کر خطرہ ٹل جانے کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ اور ہفتہ کی علی الصبح یہ انتباہات ایسے وقت میں جاری کیے گئے، جب ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ریاض کے لیے جاری کیے گئے یہ انتباہات حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں حالیہ شدت آنے کے بعد پہلی بار جاری کیے گئے تھے۔ روئٹرز کے ایک صحافی نے ریاض کے علاقہ العلیا میں دو دھماکوں جیسی آوازیں سننے کی اطلاع بھی دی ہے۔ یہ پیش رفت اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئی، جس میں حوثیوں کے فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ گروپ نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں بعض ’’مجرمانہ کوششوں‘‘ کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے ان واقعات کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہرایا اور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔ سعودی حکومت کے میڈیا دفتر کی جانب سے حوثیوں کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ حوثی، جو یمن کے شمالی اور گنجان آباد علاقوں پر کنٹرول رکھتے ہیں، جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سے سعودی مفادات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان حملوں میں بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہازوں پر حملے بھی شامل ہیں۔ ایران کے حمایت یافتہ اس گروپ نے رواں ماہ ایک تیز رفتار کارروائی میں بحیرہ احمر کے پورے یمنی ساحلی علاقہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ حوثیوں کا الزام ہے کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران سعودی فضائیہ نے ان کے خلاف سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔