حوثی قائدین کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت

   

صنعا ۔ یکم ستمبر (ایجنسیز) یمن کے دارالحکومت صنعاکی سب سے بڑی مسجد میں پیر کے روز ہزاروں افراد نے اْن 12 اعلیٰ حوثی رہنماؤں کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی، جن میں اْن کے وزیرِاعظم بھی شامل تھے۔ یہ رہنما اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ جمعرات کو ہونے والا یہ حملہ، جس میں پہلی بار حوثیوں کے اعلیٰ عہدیدار نشانہ بنے، اس وقت کیا گیا جب بڑی تعداد میں لوگ حوثی سربراہ عبدالملک الحوثی کی ریکارڈ شدہ تقریر دیکھنے کے لیے جمع تھے۔ حملے میں گروپ کے بیشتر وزراء ہلاک ہوگئے۔ نمازیوں نے حوثیوں کا نعرہ بلند کیا: اللہ اکبر، امریکہ کو موت، اسرائیل کو موت، یہودیوں پر لعنت، اسلام کو فتح ۔ اس موقع پر محمد مفتاح، جو اب صنعا میں ایران نواز حکومت کے سربراہ ہیں، نے انتقام لینے اور ملک کے اندرونی جاسوسوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔ مفتاح نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم دنیا کی سب سے بڑی انٹیلی جنس سلطنت کا سامنا کررہے ہیں، جس نے حکومت کو نشانہ بنایا ہے اس میں امریکی انتظامیہ، صیہونی ادارہ، صیہونی عرب اور یمن کے اندر موجود جاسوس شامل ہیں۔ محمد مفتاح ہفتے کو اسرائیلی حملے میں وزیرِاعظم احمد غالب الرہوی کی ہلاکت کے بعد قائم مقام سربراہ بنے۔ الرہوی زیادہ تر علامتی عہدے پر فائز تھے اور اصل طاقت کے مرکزکا حصہ نہیں تھے۔ مفتاح اس سے قبل ان کے نائب کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ صنعاء میں اقوام متحدہ کے دفاتر پر چھاپے کے دوران کم ازکم11 اقوام متحدہ کے عہدیداروںکو حراست میں لیا گیا۔ حوثیوں نے اس اقدام کی کوئی وجہ بیان نہیں کی، تاہم وہ اس سے قبل بھی اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کے کئی یمنی ملازمین کو جاسوسی کے شبہ میں قید کر چکے ہیں۔ اسرائیل نے جمعہ کو کہا تھا کہ اس کا فضائی حملہ حوثیوں کے چیف آف اسٹاف، وزیر دفاع اور دیگر سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنانے کیلئے کیا گیا تھا اور وہ نتائج کی تصدیق کر رہا ہے۔ حوثیوں کے طاقتور وزیرِ دفاع محمد العاطفی، جو میزائل بریگیڈز گروپ کی قیادت کرتے ہیں، کی حالت تاحال واضح نہیں کیونکہ وہ حملے کے بعد منظرِ عام پر نہیں آئے۔