حکومت،بھارت جوڑو یاترا سے بوکھلاہٹ کا شکار

   

یاترا منسوخ کرنے وزیر صحت کے مکتوب پر کانگریس قائدین کا شدید ردعمل

نئی دہلی : کورونا وائرس ایک بار پھر چین سمیت دنیا کے کئی ممالک میں پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔ چین کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت ہند بھی چوکنا ہوگئی ہے۔ مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویہ نے کل کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی سے ‘بھارت جوڑو یاترا’ ملتوی کرنے کی اپیل کی۔مرکزی وزیر صحت نے یہ اپیل ان کی پارٹی کے ارکان کی درخواست پر کی ہے۔ مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویہ نے راہول گاندھی اور راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کو ایک خط لکھا ہے، جس میں ان پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت جوڑو یاترا میں کووڈ پروٹوکول پر عمل کریں۔ اگر یہ ممکن نہیں، تو ملک کے مفاد میں یاترا ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا جائے۔خط میں مرکزی وزیر صحت نے ‘بھارت جوڑو یاترا’ کے ذریعے کورونا پھیلنے کے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔یاترا منسوخ کرنے حکومت کے مکتوب پر کانگریس کے سینئر قائدین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت یاترا سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ راجستھان میں جاری بھارت جوڑو یاترا میں کووڈ کے رہنما خطوط پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے۔ ماسک اور سینیٹائزر استعمال کرنے کے لیے پروٹوکول بنایا جائے۔ اس کے علاوہ صرف ان لوگوں کو یاترا میں شامل ہونے کی اجازت دینے کی اپیل کی گئی ہے جنہیں کورونا ویکسین ملی ہے۔سفر میں شامل ہونے سے پہلے اور بعد میں مسافروں کو الگ تھلگ رکھنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اپنے خط میں مرکزی وزیر صحت نے لکھا کہ اگر کووڈ پروٹوکول پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے، تو صحت عامہ کی ایمرجنسی صورت حال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور ملک کو کووڈ کی وبا سے بچانے کے لیے، میں درخواست کرتا ہوں کہ ‘بھارت جوڑو یاترا’ کو ملتوی کر دیا جائے۔ مرکزی وزیر صحت کے اس خط کوکانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے مکمل طور پر سیاست پر مبنی قرار دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت جوڑو یاترا سے ڈر کر بی جے پی یہ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا نے مودی حکومت کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ عام لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے بی جے پی مختلف سوالات اٹھا رہی ہے۔ کیا گجرات انتخابات میں پی ایم مودی ماسک پہن کر گھر گھر گئے اور تمام پروٹوکول کی پیروی کی؟ ۔