حکومت، وزراء اور ارکان اسمبلی و کونسل کو ڈینگو متاثرین کی مدد کیلئے آگے آنے کا مشورہ

   

ڈینگو اور وبائی امراض سے نمٹنے حکومت کے اقدامات ناکافی، علی مسقطی صدر تلگودیشم کا ردعمل

حیدرآباد۔18ستمبر(سیاست نیوز) حکومت ‘ ریاستی وزراء ‘ ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل ڈینگو متاثرین کی مدد کے لئے آگے آئیں کیونکہ معاشی ابتری کی صورتحال سے حکومت بھی واقف ہے اور شہرمیں ڈینگو کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ بھی حکومت سے کوئی چھپی ہوئی نہیں ہے۔جناب علی مسقطی نائب صدر تلگو دیشم پارٹی نے ریاستی حکومت کی جانب سے ڈینگو اور وبائی امراض سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر خانگی دواخانو ںمیں بھی مفت علاج کی فراہمی کے اقدامات کو یقینی بنائے کیونکہ ریاست میں غریب ہی نہیں بلکہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے عوام بھی معاشی بحران کا شکار ہیں اور وہ اس صورتحال میں ڈینگو اور دیگر وبائی امراض کے لئے کروائے جانے والے معائنوں کے لئے خرچ کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جو اقدامات کے دعوے کئے جا رہے ہیں وہ ناکافی ہیں کیونکہ سرکاری دواخانوں میں بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی اور داخلہ دینے سے انکار کے واقعات نے عوام میں تشویش کی لہر پیداکی ہوئی ہے۔جناب علی مسقطی نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کے بیشتر اضلاع میں ڈینگو اور دیگر وبائی و موسمی امراض پھیل رہے ہیں ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی وزراء اور ارکان اسمبلی کے علاوہ سرکاری نمائندوں کو دواخانوں کا دورہ کرواتے ہوئے حقائق سے آگہی حاصل کرے اور مستحق مریضوں کی فی الفور مدد کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔انہو ںنے بتایا کہ شہر کے کئی گھرانوں میں ڈینگو سے لوگ متاثر ہورہے ہیں اور حکومت کو اس بات کی اطلاع ہے لیکن ان اطلاعات کو نظر انداز کرتے ہوئے حکومت صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے ابتر کرنے میں مصروف ہے۔

جناب علی مسقطی نے کہا کہ شہر حیدرآبا دکے علاوہ ریاست کے دیگر علاقوں میں منتخبہ ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل کو اپنے علاقہ کے عوام کی صورتحال سے آگہی حاصل کرنے اور اپنے علاقو ںمیں صفائی کے انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کا آغاز کرنا چاہئے ۔انہو ںنے بلدی عہدیداروں اور کارپوریٹرس سے اپیل کہ وہ اپنے علاقو ںمیں صفائی کے انتظامات کو بہتر سے بہتر بنانے کے اقدامات کریں ۔