حکومتوں کی زرعی پالیسی کے خلاف کانگریس کا دھرنا

   

کسانوں کا فی الفور خریدی مراکز قائم کرنے کا مطالبہ ، صدر ضلع کانگریس ایم موہن ریڈی کا خطاب

نظام آباد :مرکزی اور ریاستی حکومت کی زرعی پالیسی کیخلاف آج کانگریس پارٹی کی جانب سے قومی شاہراہ 44 مامڑی پلی ایکس روڈ پر دھرنا منظم کیا گیا ۔ صدر ضلع کانگریس مانالا موہن ریڈی کی قیادت میں آج مہا دھرنا کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں سینکڑوں کسانوں نے شرکت کرتے ہوئے حکومت کے خلاف ناراضگی کا مظاہرہ کیا ۔ صدر ضلع کانگریس مسٹر موہن ریڈی نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو ماہ سے حکومت کی زرعی پالیسی کے خلاف مسلسل احتجاج کیا جارہا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے خاموشی اختیار کی جارہی ہے اور حکومت کی جانب سے باریک دھان و کاشتکاری کیلئے ہدایت دی گئی تھی جس پر کسانوں نے باریک دھان کی کاشت کی ہے اور تلنگانہ میں باریک دھان کی فصل کو کیڑے لگنے کی وجہ سے کاشت متاثر ہوئی ہے اور کسان مجبوراً اپنی کاشت کو نذرآتش کرنے پر مجبور ہورہے ہیں اور جن افراد کی کاشت اچھی ہے اور ان کی دھان کو اقل ترین قیمت کی ادائیگی سے ابھی تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا اور 2500 روپئے فی کنٹل خریدنے کا مطالبہ کیا اور رائس ملرس کی جانب سے کٹوتی کو فوری بند کرتے ہوئے اقل ترین قیمت کی ادائیگی کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ مکئی خریدنے کا اعلان کیا گیا لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی واضح پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا اور ابھی تک خریدی مراکز قائم نہیں کئے گئے اور کسان درمیانی افراد کو کاشت فروخت کرنے کیلئے مجبور ہورہے ہیں لہذا فوری خریدی مراکز قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ ہلدی کی اقل ترین قیمت کا اعلان کرنے اور آندھرا پردیش حکومت کی طرح ہلدی کی قیمت پر بونس ادا کرنے اور ہلدی بورڈ کا قیام عمل میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع کے وزیر مسٹر پرشانت ریڈی ہلدی کی خریدی میں حکومت پر دبائو ڈالنے کا مطالبہ کیا ۔ کسان کھیت کانگریس کے در انویش ریڈی نے مخاطب کرتے ہوئے حکومت کی زرعی پالیسی کی وجہ سے کسانوں کو بے حد تکالیفات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور تلنگانہ حکومت کی جانب سے باریک دھان کی کاشت کرنے پر مجبور کرتے ہوئے رعیتو بندھو سے محروم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے کسان باریک دھان کی کاشت کی ہے لیکن دھان کی کاشت سے کسانوں کو زبردست نقصان ہوا ہے اس نقصان کا معاوضہ ادا کرنے اور ہلدی بورڈ کے قیام کیلئے مرکز پر دبائو ڈالنے کا مطالبہ کیا ۔ سابق رکن اسمبلی انیل کمار نے بھی اپنی تقریر میں کہا کہ حکومت کی زرعی پالیسی کے باعث کسانوں کو جو نقصان ہوا ہے اس کی پابجائی حکومت کی جانب سے کیا گیا تو بہتر ہوگا انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ابھی تک ہلدی بورڈ پر واضح پالیسی ظاہر نہیں کی گئی اور رکن پارلیمنٹ نے اپنے اعلان سے انحراف کرلیا اور حکومت اقل ترین کی قیمت کی ادائیگی میں ناکام ہوئی ہے ۔ ہلدی ، مکئی اور دھان کے کسانوں کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کسانوں کے مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک تفصیلی یادداشت آرڈی او آرمور کو حوالے کیا ۔