حکومت اقلیتی بجٹ اور دیگر وعدوں کی تکمیل میں ناکام : کے ٹی آر

   

چیف منسٹر کو کھلا مکتوب ، بجٹ میں چھ ضمانتوں اور دیگر 420 وعدوں کے لیے فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 19 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے ریاست کے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو ایک کھلا مکتوب روانہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آئندہ تلنگانہ بجٹ 2026-27 میں کانگریس کی جانب سے کئے گئے چھ ضمانتوں اور دیگر انتخابی وعدوں پر عمل آوری کے لیے خاطر خواہ فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت اپنے دور اقتدار کے تقریبا نصف عرصہ مکمل کرنے کے باوجود 95 فیصد وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو بجٹ میں بھی چھ ضمانتوں پر عمل درآمد کے لیے مناسب رقم مختص نہیں کی گئی ۔ جس کے باعث عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے ۔ اپنے مکتوب میں کے ٹی آر نے خواتین ، بزرگوں ، طلبہ ، نوجوانوں اور کسانوں کے لیے بجٹ میں خصوصی فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ بی سی ، ایس سی ، ایس ٹی اور اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کو مزید نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر اس بار بھی بجٹ میں ان طبقات کے لیے واضح مالی انتظامات نہ کئے گئے تو عوام کانگریس حکومت سے سخت سوال کریں گے۔ کسانوں کے ریتو بندھو کے علاوہ دیگر وعدوں کیلئے بھی بجٹ میں مناسب فنڈز مختص کرنے پر زور دیا ۔ کے ٹی آر نے مطالبہ کیا کہ دو لاکھ سرکاری ملازمتوں کی بھرتی ۔ جاب کیلنڈر کے اجراء اور بے روزگاری الاونس کی فراہمی کیلئے بھی بجٹ میں واضخ رقم مختص کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ایک بار پھر وعدوں کو پس پشت ڈالنے کی تیاری میں ہے ۔ کے ٹی آر نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر سال 2026-27 کے بجٹ میں چھ ضمانتوں اور 420 وعدوں کے علاوہ دیگر اعلانات کے لیے مناسب فنڈز محتص نہ کئے گئے تو کانگریس حکومت کو بی آر ایس کی جانب سے عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام اب ’ گارنٹی کارڈس ‘ کو بقایا کارڈس ‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور مزید تاخیر برداشت نہیں کریں گے ۔۔ 2