حکومت انتقامی کارروائی کرتی تو بی آر ایس قائدین جیل میں ہوتے : مہیش کمار گوڑ

   

قانون کے مطابق فون ٹیاپنگ جانچ، خود میرا فون بھی ٹیاپ کیا گیا
حیدرآباد 23 جنوری (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے بی آر ایس قائدین کی جانب سے حکومت پر انتقامی کارروائی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اگر حکومت انتقامی سیاست پر عمل کرتی تو بی آر ایس قائدین جیل میں ہوتے۔ میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ قانون کے مطابق فون ٹیاپنگ اسکام کی جانچ کی جارہی ہے۔ اسکام کے سلسلہ میں جن افراد کے نام بھی منظر عام پر آئے اُن سے تفصیلات حاصل کرنے کے لئے پوچھ تاچھ کی مخالفت کرنا افسوسناک ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس دور حکومت میں اُس وقت کے اپوزیشن قائدین کے علاوہ خود بی آر ایس کے کئی قائدین کے ٹیلیفون ٹیاپ کئے گئے۔ اُنھوں نے کہاکہ کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی جانب سے انتقامی سیاست پر عمل آوری کا کانگریس حکومت پر الزام بے بنیاد ہے۔ کانگریس کبھی بھی انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتی۔ بی آر ایس دور حکومت میں مخالفین کے خلاف مقدمات اور ہراسانی سے ہر کوئی واقف ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس حکومت نے حیدرآباد کی قیمتی اراضیات کو خانگی اداروں کے حوالہ کردیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ خود بھی فون ٹیاپنگ کا شکار ہوچکے ہیں اور بی آر ایس دور میں فون پر بات کرنے سے لوگ گھبرا رہے تھے۔ نکسلائٹس سے روابط کے الزامات کے تحت میرا فون ٹیاپ کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ کے ٹی آر کی بہن کویتا نے بھی بی آر ایس قائدین بشمول اُن کے شوہر کے ٹیلیفون ٹیاپ کرنے کی شکایت کی ہے۔ عہدیداروں نے 547 ٹیلیفونس کی نشاندہی کی جن کی نگرانی کی گئی۔ اُنھوں نے کہاکہ فون ٹیاپنگ مسئلہ پر کے ٹی آر کو خود اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔مہیش کمار گوڑ نے الزام عائد کیاکہ علی بابا چالیس چور گروہ کی طرح کے سی آر خاندان نے تلنگانہ کو لوٹنے کا کام کیا ہے۔ اُنھوں نے فلمی شخصیتوں کے ٹیلیفون ٹیاپنگ کے بارے میں کے ٹی آر سے وضاحت طلب کی۔ ایک سوال کے جواب میں مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ وہ ایک بہن کی طرح کویتا کا احترام کرتے ہیں۔1