سود معافی پر 7 دن میں صورتحال کو واضح کرنے مرکز کوعدالت عظمیٰ کی ہدایت ، یکم ستمبر کو اگلی سماعت
نئی دہلی: موریٹوریم، یعنی کہ بینکوں کے قرض ادائیگی کے عمل کو موخر کرنے کے معاملہ میں چہارشنبہ کے روز ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت پر سخت تبصرہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ موریٹوریم کے معاملہ میں وہ اپنا رْخ واضح کرنے کے لئے جلد حلف نامہ دائر کرے اور ریزرو بینک کے پیچھے چھپ کر خود کا دفاع کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اب اس معاملہ کی آئندہ سماعت یکم ستمبر کو ہوگی۔اس دوران لاک ڈاون کے سبب ہندوستانی معیشت میں ہونے والے خسارہ پر بھی سپریم کورٹ نے اہم تبصرہ کیاہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک کی معیشت میں جو دقتیں آ رہی ہیں اس کے پیچھے حکومت کی طرف سے بعض ناعاقبت اندیشانہ فیصلے بھی ہیں۔ لون موریٹوریم کے معاملہ میں سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکز سے کہا، ’’آپ نے کہا ہے کہ آر بی آئی نے یہ فیصلہ لیا ہے، ہم نے آر بی آئی کا جواب دیکھا ہے لیکن مرکزی حکومت آر بی آئی کے پیچھے چھپ رہی ہے۔‘‘واضح رہے کہ آر بی آئی نے فکسڈ لون اور ای ایم آئی کی ادائیگی کے لئے متبادل 6 مہینے کے قرض کے التوا کا اعلان کیا تھا۔ اس کی میعاد 31 اگست تک بڑھا دی گئی تھی۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ صرف کاروبار میں دلچسپی نہیں لے سکتے، لوگوں کی پریشانی کو بھی دیکھنا ہوگا۔عرضی گزار کے وکیل راجیو دت نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے سماعت کو بار بار موخر کا مطالبہ اور کوشش کی جا رہی ہے۔ مرکزی حکومت نے تاحال کوئی حلف نامہ دارئر نہیں کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے کہنے کے باوجود نہ تو مرکز اور نہ ہی آر بی آئی نے حلف نامہ دائر کیا ہے۔
اس بارے میں مرکزی حکومت کی طرف سے حلف نامہ دائر کرنے میں تاخیر پر سختی دکھاتے ہوئے عدالت نے ستمبر کے پہلے ہفتہ تک اسے جمع کرنے کو کہا۔ سالیسیٹر جنرل تشارمہتا نے کہا کہ حکومت آر بی آئی کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔تاہم تمام مسائل کا حل یکساں نہیں ہوسکتا۔اس سے قبل کیس کی سماعت میں عدالت نے کہا تھا کہ حکومت اس معاملے کو بینکوں اور صارفین کے مابین معاملت بتا کر اپنا دامن نہیں جھاڑسکتی۔سپریم کورٹ نے یہ بھی ریمارک کیا کہ’’ بینکوں نے ہزاروں کروڑوں روپے این پی اے میں ڈال دئے ، لیکن عام آدمی کیلئے کچھ مہینوں کے لئے ملتوی کردہ ای ایم آئی پر سود کی وصولی چاہتے ہیں۔سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل سے کہا کہ اس حوالہ سے واضح ٹائم لائن دیں کہ حکومت حلف نامہ کب دے رہی ہے۔عرضی گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے کہا، ’’موریٹوریم کی مدت 31 اگست کو ختم ہو رہی ہے۔ یکم ستمبر کے بعد اس طرح کے قرض ادا نہ کرنے پرانہیں ڈیفالٹر مان لیا جائے گا۔ یہ لون این پی اے میں تبدیل ہو جائیں گے جوکہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘‘ خیال رہے کہ سیبی نے کہا کہ جب تک اس مسائل پر فیصلہ نہیں ہو جاتا، موریٹوریم جاری رکھنا چاہیے۔ آر بی آئی کے گورنر یہ کہہ چکے ہیں کہ اگلی سہ ماہی میں بھی حالات اسی طرح خراب رہنے والے ہیں۔