حکومت بات کرے، تحریک ختم ہو جائے گی”: کسانوں کے ایم ایس پی اور دیگر مطالبات پر راکیش ٹکیت نے دیا بیان

,

   

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لے لیا ہے اور اس سے متعلق بل پارلیمنٹ میں بھی پاس ہو چکا ہے، لیکن کسان اب بھی اپنے کچھ مطالبات کو لے کر دہلی کی سرحدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔تینوں زرعی قوانین کی منسوخی کے بعد، دہلی کی سرحدوں سے جانے کے لیے یونائیٹڈ فارمرز فرنٹ (SKM) کے اندر کسان تنظیموں میں دو خیالات ہیں۔ پنجاب کی زیادہ تر کسان تنظیمیں چاہتی ہیں کہ کسان دہلی کی سرحدوں سے واپس آجائیں اور اپنی ریاستوں میں جاکر ایم ایس پی کی ضمانت کے لیے احتجاج کریں۔ ایسے میں کسانوں کی تحریک کا مستقبل کیا ہوگا اور اس سے جڑے تمام پہلوؤں پر کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا ‘حکومت جھوٹ بول رہی ہے، وہ اس معاملے کو سلجھانا نہیں چاہتی۔ حکومت کے پاس کووڈ سے متعلق ڈیٹا نہیں ہے۔ حکومت مذاکرات کرنا نہیں چاہتی اور وہ تخریب کاری کا الزام لگا رہی ہے۔ حکومت کو بات کرنے میں آخر کیا پریشانی ہے؟ ہمیں حکومت کی طرف سے کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرانی باتوں پر بات کرنا چاہتے ہیں۔بات کریں، تحریک ختم ہو جائے گی۔