جسٹس راج شیکھر ریڈی کی رہائش گاہ پر لنچ موشن پر عثمانیہ یونیورسٹی طالب علم کی درخواست پر حکم
حیدرآباد۔6اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ اور محکمہ ٹرانسپورٹ 10 اکٹوبر تک آر ٹی سی ہڑتال کے سلسلہ میں اپنا جواب داخل کریں۔ ریاست میں جاری آر ٹی سی ہڑتال کے دوران آج دوپہر جامعہ عثمانیہ سے تعلق رکھنے والے طالب علم مسٹر سدیندر سنگھ نے جسٹس راج شیکھر ریڈی کے مکان واقع کندن باغ میں لنچ موشن داخل کرتے ہوئے استدلال پیش کیا کہ حکومت کی جانب سے آر ٹی سی ملازمین سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کئے جانے کے سبب آر ٹی سی ملازمین کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع ہوئی ہے جس کے سبب عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ درخواست گذار نے عدالت سے خواہش کی کہ وہ فوری اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت جاری کریں کہ آر ٹی سی ملازمین سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے اور عوام کو راحت پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں۔ مسٹر سدیندر سنگھ کی جانب سے داخل کی گئی درخواست میں کہا گیا کہ حکومت تلنگانہ نے آر ٹی سی ملازمین کو سرکاری ملازمین کا درجہ دینے اور انہیں ریاست کے سرکاری ملازمین میں ضم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے کئے گئے اس وعدہ پر عدم عمل آوری کے سبب صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے اور اب ملاززین نے ہڑتال شروع کردی ہے جس کے نتیجہ میں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جسٹس راج شیکھر ریڈی تلنگانہ ہائی کورٹ نے اس درخواست کی سماعت کے بعد ریاستی حکومت اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملہ میں 10 اکٹوبر کو اپنا جواب داخل کریں۔درخواست کی سماعت کے دوران حکومت کے وکیل نے آر ٹی سی ملازمین کی جانب سے کی گئی ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی جانب سے تہوار کے دوران ہڑتال کیا جانا عوام کو تکالیف میں مبتلاء کرنے کے مترادف ہے اور ان کا یہ رویہ ناقابل برداشت ہے ۔ جسٹس راج شیکھر ریڈی کے مکان پر ہوئی ایک گھنٹہ سے زائد مقدمہ کی سماعت کے بعد ہائی کورٹ جسٹس نے مقدمہ کی اگلی سماعت 10 اکٹوبر کو مقرر کی ہے ۔ ہائی کورٹ کو جاری تعطیلات کے سبب مقدمہ کی سماعت کندن باغ میں واقع جسٹس راج شیکھر ریڈی کے مکان میں ہوئی ۔