حکومت تلنگانہ سے منشیات معاملہ کی تحقیقاتی رپورٹ طلب

   

حکومت کو 10 دسمبر تک مہلت ، ریونت ریڈی کی درخواست پر تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت
حیدرآباد۔ حکومت تلنگانہ 10ڈسمبر تک منشیات کے معاملہ میں ایس آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے کانگریس رکن پارلیمنٹ ملکا جگری مسٹر اے ریونت ریڈی کی جانب سے داخل کردہ درخواست مفاد عامہ کی سماعت کے دوران یہ ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اب تک کی جانے والی اسپیشل انوسٹیگیشن ٹیم کی رپورٹ کو عدالت میں 10ڈسمبر تک پیش کیا جائے۔ ریونت ریڈی نے حکومت کی جانب منشیات کے کاروبار اور منتقلی کے سلسلہ میں کی گئی تحقیقا ت کو اچانک بند کرتے ہوئے اس کی تحقیقات ایس آئی ٹی کے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور 2017 میں تشکیل دی گئی اس ایس آئی ٹی کی رپورٹ اب تک منظر عام پر لائی نہیں گئی۔درخواست مفاد عامہ میں دعویٰ کیا کہ منشیات کے کاروبار کے سلسلہ میں شروع کی گئی تحقیقات کو انجام تک پہنچانے کیلئے لازمی ہے کہ ریاست منشیات کے کاروبار کے معاملہ کوسنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن‘سنٹرل اکنامک انٹلیجنس بیورو اینڈانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ‘ نارکوٹکس کنٹرول بیورو‘ ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹلیجنس‘ یا کسی مرکزی ادارہ کے ذریعہ تحقیقات کروائی جائیں کیونکہ محکمہ آبکاری کے پاس اتنی سہولت و اختیارات نہیں ہیں کہ وہ تلنگانہ میں منشیات کے کاروبار کو حاصل ہونے والے فروغ کے بین ریاستی اور بین الاقوامی معاملات کی جانچ کرسکے۔انہوں نے عدالت میں داخل کی گئی درخواست میں کہا کہ حکومت کی جانب سے سال 2017 کے دوران کی گئی تحقیقات اور اس کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل غیر قانونی ہے۔ انہوں نے عدالت سے خواہش کی کہ وہ منشیات کے کاروبار کے سلسلہ میں جاری تحقیقات کو غیر جانبدارانہ رکھنے کے علاوہ ریاست میں میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے قومی و بین الاقوامی سطح پر تعلقات کی جانچ کیلئے مرکزی ادارہ کے ذریعہ تحقیقات کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کریں۔ عدالت نے ریونت ریڈی کی درخواست کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے فوری طور پر اس درخواست پر احکام جاری کرنے کے بجائے معاملہ کی جانچ اور ایس آئی ٹی کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ اور اب تک کی تحقیقات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ایس آئی ٹی رپورٹ عدالت میں داخل کریں۔