منتخبہ نمائندے ذمہ داری نبھانے میں ناکام ، ترقیاتی منصوبے اعلان کی حد تک محدود
حیدرآباد۔ میٹرو ریل پرانے شہر میں لانے میں ناکامی‘ سیکریٹریٹ کی مساجد کے تحفظ میں ناکامی‘ مسجد یکخانہ کی از سر نو تعمیر میں ناکامی ‘ پرانے شہر کی ترقی کو یقینی بنانے کے پراجکٹس کو عملی جامہ پہنانے میں ناکامی ‘ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے اطراف حکومت کی جانب سے مشرقی ترقیاتی راہداری اور مغربی ترقیاتی راہداری کے طرز پر پرانا شہر جو کہ جنوبی راہداری میں شمار کیا جاتا ہے اس کے لئے ترقیاتی منصوبہ کو منظور کروانے میں ناکامی ‘ پرانے شہر میں اعلی معیاری تعلیمی اداروں کے قیام میں ناکامی ‘ پرانے شہر میں موجود تالابوں کے علاوہ پارکس کی اراضیات کے تحفظ میں ناکامی ‘ شہر کے مرکزی علاقہ چارمینار کے دامن میں موجود تاریخی مکہ مسجد کی لاک ڈاؤن کے بعد کشادگی میں ناکامی کے علاوہ اور کتنی ناکامیوں کا تذکرہ کیا جائے ۔ شہر حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقوں کی ترقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت سے ان علاقوں کی ترقی کے لئے نمائندگی کرنا ان علاقوں کے منتخبہ نمائندوں کی ذمہ داری ہے اور اگر حکومت کی جانب سے ان علاقوں کی ترقی کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو حکومت کے خلاف مہم چلانا بھی ان علاقوں کے نمائندوں کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن پرانے شہر کے عوام کو ان کے حال پر چھوڑتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ عوام ہر حال میں زندگی گذارنے کیلئے تیار ہیں خواہ ان کی مساجد مقفل کردی جائیں یا ان کی مساجد کو شہید کردیا جائے۔ ان کے علاقوں کو ترقیاتی کاموں سے محروم کیا جائے یا صرف ان کے علاقو ں میں ترقیاتی کاموں کو اعلانات کی حد تک محدود رکھا جائے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے تشکیل تلنگانہ سے قبل علحدہ ریاست کیلئے جدوجہد کے دوران مسلمانوں سے صرف 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ نہیں کیا تھا بلکہ شہر حیدرآباد کے عوام سے دو اور وعدے بھی کئے تھے جن میں چنچل گوڑہ جیل کو منتقل کرتے ہوئے اس کی جگہ کے جی تا پی جی یونیورسٹی سطح کے تعلیمی ادارہ کے قیام کے علاوہ ملک پیٹ میں موجود ریس کورس کو منتقل کرتے ہوئے اس کی جگہ ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے انفارمیشن ٹکنالوجی پارک قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ 12فیصد تحفظات کی فراہمی میں موجود مرکزکی رکاوٹ کو قبول کربھی لیا جائے تو چنچل گوڑہ جیل کی منتقلی اور کے تا پی جی تعلیمی ادارہ کے قیام کے علاوہ ریس کورس کی منتقلی اور اس کی جگہ آئی ٹی پارک کے قیام میں کون رکاوٹ پیدا کررہا ہے اور ان علاقوں کی نمائندگی کرنے والے اس وعدہ پر عدم عمل آوری پر کیوں خاموش ہیں!