حکومت تلنگانہ گھر سے کام کرنے کے کلچر کو ختم کروانے کوشاں

   

Ferty9 Clinic

حکومت اور کمپنیوں کے درمیان بات چیت پر ملازمین کی گہری نظر

حیدرآباد۔22اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت جتنا جلد ہوسکے گھر سے کام کرنے کے کلچر کو ختم کروانے کی کوشش میں مصروف ہے جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذمہ دارو ںکی جانب سے ورک فرم ہوم کے خاتمہ کے سلسلہ میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ ملازمین حکومت اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذمہ دارو ںکے درمیان جاری بات چیت اور اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ورک فرم ہوم کے کلچر کے خاتمہ کی صورت میں انہیں دفتر سے رجوع ہوتے ہوئے اپنے کام کا ج کا آغاز کرنا ہوگا۔ حیدرآباد میٹرو ریل ‘محکمہ برقی‘ پٹرول کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے علاوہ دیگر ذرائع آمدنی پر منفی اثرات کے سلسلہ میں حکومت کا یہ احساس ہے کہ اگر انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے گھر سے کام کاج کے رجحان کو ختم کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں آمدنی پر ہونے والے منفی اثرات کو ختم کیا جاسکتا ہے اسی لئے محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے عہدیدارکمپنیوں کے ذمہ دارو ںکو دفاتر میں کام کاج کے آغاز کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ملازمین کے گھروں سے نکل کر دفاتر نہ پہنچنے کے سبب کئی نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس میں سب سے اہم حمل و نقل کے ذرائع کو ہونے والے نقصانات ہیں اور ان کی پابجائی کے لئے ضروری ہے کہ دفاتر میں کام کا ج شروع ہو اور ریاست خزانوں کو ہونے والے نقصانات کو کم کیا جاسکے۔شہر حیدرآباد میں حیدرآباد میٹرو ریل کو یومیہ ہورہے نقصان کے سلسلہ میں حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں نے ریاستی حکومت سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن حکومت کی جانب سے واضح کردیا گیا ہے کہ حکومت مالی اعتبار سے حیدرآباد میٹرو ریل کو کوئی مدد فراہم کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ اسی طرح انفارمیشن ٹکنالوجی کے دفاتر کے بند ہونے کے سبب جس صورتحال کا سامنا محکمہ برقی کو کرنا پڑرہا ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں کے بند ہونے کے سبب کمرشیل برقی کی کھپت میں کمی واقع ہوئی ہے اور گھریلو برقی شرحوں پر ہونے والی برقی کھپت پر کمرشیل سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں جن پر روک لگانا محکمہ برقی کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ اب بھی 80 فیصد کے قریب ملازمین گھر سے کام کاج انجام دے رہے ہیں علاوہ ازیں روزانہ گھر سے دفتر کے لئے نکلنے والے ملازمین کولانے اور لے جانے والی گاڑیوں میں پٹرول اور ڈیزل کی جو ضرورت ہوا کرتی تھی اس میں بھی کمی ریکارڈ کی جارہی ہے اور پٹرول و ڈیزل کی فروخت سے ہونے والی آمدنی میں بھی گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے اسی لئے ریاستی حکومت کی جانب سے گھر سے کام کاج کے رجحان کو ختم کروانے کی کوشش کی جار ہی ہے جبکہ کمپنیوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے تبادلۂ خیال کے بعد اور اپنے ملازمین کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے اس سلسلہ میں فیصلہ کریں گے ۔ محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی کے عہدیدارو ںکا کہناہے حکومت کی ہدایت کے مطابق کمپنیوں کے ذمہ داروں کو اس بات کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ وہ گھر سے کام کاج کے کلچر کو کم از کم بتدریج ختم کرنے کے اقدامات کریں۔ M