حکومت سے مذہبی بنیاد پر ہجومی تشدد کے مرتکب شرپسندوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ

   

پرتاپ گڑھ : ملک میں کچھ تنظیموں سے وابستہ شرپسند عناصر نے ایک مرتبہ پھر مذہبی بنیاد پر ہجومی تشدد کی مہم شروع کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی و بھائی چارے کو درہم برہم کرکے اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے میں کوشاں ہیں ،جو جمہوریٹ و آئین کی منافی ہے ۔ پیس پارٹی کے قومی نائب صدر ڈاکٹر عبدالرشید انصاری نے جاری پریس ریلیز کے ذریعہ ہجومی تشدد کے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے شرپسندوں پر قدغن لگانے کا مطالبہ کیا ۔ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ آج حالات ایسے پیدا کئے جارہے ہیں کہ اقلیتی طبقے کے لوگ کہیں باہر جانے سفر کرنے سے خوفزدہ ہیں، انہیں خدشہ ہے کہ کہیں شرپسند ان پر حملہ نہ کر دیں ۔غازی آباد کے طالب علم ذیشان ، کامل و شہزاد وغیرہ جیسے متعدد افراد کو مختلف مقام پر ایک منظم سازش کے تحت شرپسندوں نے مذہبی منافرت پر صرف اس لیئے سخت زد و کوب کر رہے ہیں کہ انہوں نے جے شری رام کا نعرہ نہیں لگایا۔ اس طرح کے واقعات کسی بھی مہذب معاشرے کے لیئے انتہائی شرمناک ہے ۔کسی بھی راہ گیر مسافر پر ہجومی تشدد کے ذریعہ مذہبی نعرہ نہ لگانے پر قاتلانہ حملہ کیئے جانے کی کیا کوئ مذہب اجازت دیتا ہے ؟