حکومت قرض ادا کرنے کے علاوہ فلاحی اسکیمات پر عمل کررہی ہے: ڈپٹی چیف منسٹر

   

ہریش راؤ نے قرض کے تعلق سے اسمبلی اور ریاست کے عوام کو گمراہ کیا ہے: ملو بٹی وکرامارکا کا بیان
حیدرآباد /19 ڈسمبر ( سیاست نیوز)وزیر فینانس و ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرامارک نے کہا کہ تلنگانہ 6 لاکھ 71 ہزار کروڑ روپئے کی مقروض ہے۔ قرض اور زیر التواء بقایا جات کو شامل کرلیا جائے تو ریاست کا مجموعی قرض بڑھ کر7 لاکھ 10 ہزار کروڑ تک پہنچ جائے گا۔ اسمبلی میں قرض پر مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے ملو بھٹی وکرامارک نے کہا کہ کانگریس حکومت پر ایک سال میں ایک لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کرنے کا بی آر ایس کے قائدین الزام عائد کررہے ہیں جس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ ایف آر بی ایم قواعد کے مطابق حکومت نے 52 ہزار کروڑ کا قرض حاصل کیا اس سے زیادہ قرض حاصل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کے اندرون ایک سال حکومت نے 41 ہزار کروڑ روپئے کے زیر التواء بلز ادا کئے۔ 43 ہزار کروڑ کا قرض ادا کیا گیا اس کے علاوہ 26 کروڑ روپئے سود ادا کرچکے ہیں۔ بی آر ایس نے جو بلز زیر التواء رکھے ان میں 12 ہزار کروڑ روپئے ادا کئے گئے ۔ سرکاری ملازمین کو مہینہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ دی جارہی ہے۔ زرعی انشورنس کیلئے 1514 کروڑ، خواتین کو آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کیلئے1375 کروڑ ، کلیانہ لکشمی ، شادی مبارک اسکیمات کیلئے 2311 کروڑ ، گیس سلینڈر سبسیڈی کیلئے 442 کروڑ ، کسانوں قرض کیلئے 20,600 کروڑ ، 200 یونٹ مفت برقی کیلئے 1234 کروڑ آبپاشی پر 11,140 کروڑ، راجیو آروگیہ شری کیلئے 800 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ کانگریس نے ایک سال میں جملہ ایک لاکھ 18 ہزار کروڑ کا قرض ادا کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس کو اقتدار ملنے کے بعد اسمبلی میں وائیٹ پیپر جاری کرکے ریاست کے مالی موقف اور قرض کی تفصیلات پیش کردی ہے۔ آر بی آئی نے اپنی رپورٹ میں قرض کے تعلق سے جو وضاحت کی اس کے اعداد و شمار کو پیش کرکے اس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حقیقت میں ہریش راؤ نے قرض کے تعلق سے جھوٹ بول کر ایوان اسمبلی کی توہین کی ہے اور ریاست کے عوام کو گمراہ کیا ہے۔ کارپوریشن کے قرض اور حکومت کی ضمانت سے حاصل کردہ قرض کو مجموعی قرض میں شمار نہ کرکے عوام کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ بی آر ایس حکومت نے چار قسطوں میں ایک لاکھ روپئے تک قرض ادا کیا ہے۔ دوسری میعاد میں وہی صورتحال اختیار کی گئی لیکن کانگریس حکومت نے صرف ایک سال میں 2 لاکھ روپئے کے کسانوں کے قرض معاف کردیئے۔ کانگریس حکومت ایک طرف قرض ادا کررہی ہے اور دوسری طرف فلاحی اسکیمات پر کامیابی سے عمل آوری کررہی ہے۔2