بھیوانی: انڈین نیشنل لوک دل (آئی این ایل ڈی) کے سپریمو اور سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ نے کہا ہے کہ انہیں 3206 ملازمتیں دینے پر10سال کے لئے جیل بھیجاگیاتھا۔اس بارآئی این ایل ڈی کی حکومت بننے پروہ گھر کے ہر فرد کو سرکاری نوکری دیں گے ، چاہے اس کے بعد انہیں پھانسی ہی کیوں نہ دے دی جائے ۔ چوٹالہ نے منگل کو یہاں کہا کہ اپوزیشن نے یہ پروپیگنڈا کیا تھا کہ ان کی زندگی جیل میں ہی ختم ہوجائے گی اورآئی این ایل ڈی کا وجود ختم ہو جائے گا، لیکن آئی این ایل ڈی کارکنوں نے حوصلہ نہیں چھوڑا اور ان کی غیر موجودگی میں بھی تنظیم کو مزید مضبوط کرنے کا کام کیا۔انہوں نے ریاستی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت مکمل طور پر بدعنوانی کا اڈہ بن چکی ہے ۔ آج حکومت کے حامی ارکان اسمبلی کو بھی سب انسپکٹر کی نوکری کے لیے پیسے دینے پڑرہے ہیں۔ ریاست میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔بی جے پی-جے جے پی مخلوط حکومت ریاست کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہے ۔ حکومت کے حالیہ فیصلے جن کے تحت اسکولوں کو بند کیاجارہا ہے ۔ جس کی وجہ سے ریاست تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جائے گی۔ ریاست بے روزگاری کے معاملے میں پہلے نمبر پر ہے ۔سابق وزیر اعلیٰ توشام حلقے کے گاوں ساگوان، سرل، گارن پورہ کلاں، میران، بھیرہ، ایشروال، سنڈوا، دیورالا وغیرہ گاؤں میں کارکنوں سے خطاب کررہے تھے ۔ وہ یہاں سابق نائب وزیر اعظم دیوی لال کے یوم پیدائش کے موقع پر 25 ستمبر کو فتح آباد میں منعقد ہونے والی ریلی کی دعوت دینے پہنچے تھے ۔انہوں نے کارکنان میں جوش بھرتے ہوئے اپیل کی کہ وہ اقتدار کی بھوک چھوڑ کر تنظیم کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ جب آئی این ایل ڈی نے اقتدار چھوڑا تو دو ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا خزانہ تھا لیکن اب حکومت پر ڈھائی لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض ہے ۔ آج ریاست کی صورتحال ایسی ہے کہ اسکولوں میں استاد نہیں، اسپتالوں میں دوائیں اور ڈاکٹر نہیں، کسانوں کو کھاد اور بیج خریدنے اور فصلیں بیچنے کے لیے لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کرپائیں کہ وہ پنچایتی انتخابات پارٹی کے نشان پر لڑیں گے یا نہیں، جبکہ آئی این ایل ڈی نے یہ الیکشن پارٹی کے نشان پر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔