کورونامریضوں کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر آسام حکومت بھی توسیع کے حق میں
حیدرآباد۔16مئی (سیاست نیوز) حکومت مہاراشٹرا کی جانب سے لاک ڈاؤن میں 31مئی تک کی توسیع کی حمایت کی جا رہی ہے اور کہا جار ہا ہے کہ حکومت کی جانب سے 31مئی تک لاک ڈاؤن پر عمل آوری کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے ۔ مرکزی وزارت ریلوے کی جانب سے 30جون تک مسافرین کے لئے ٹرینیں نہ چلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹکٹس کی واپسی کے اقدامات شروع کردیئے گئے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ حکومت مہاراشٹرا کے علاوہ آسام کی جانب سے لاک ڈاؤن میں توسیع کی سفارش اور چیف منسٹر تلنگانہ کی جانب سے ٹرین خدمات کو شروع نہ کرنے کی اپیل پر مرکزی وزارت ریلوے کی جانب سے عمل آوری کی جا رہی ہے اور مزدوروں کی منتقلی کے علاوہ دارالحکومت کے لئے چلائی جانے والی ٹرینوں کے علاوہ مسافرین کے لئے ٹرینوں کی بحالی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت مہاراشٹرا کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ مہاراشٹرا کی جانب سے کورونا وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہاہے اورحکومت تلنگانہ کی جانب سے مرکزی حکومت کے فیصلہ سے آگے بڑھ کر لاک ڈاؤن کو 29 مئی تک پہلے ہی توسیع دی جاچکی ہے جبکہ حکومت ہند کی جانب سے لاک ڈاؤن 17مئی تک ہی اعلان کیا گیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت مہاراشٹرا کے علاوہ حکومت آسام کی جانب سے لاک ڈاؤن کو 31مئی تک توسیع دینے کے منصوبہ پر بھی مرکزی حکومت کی جانب سے غور کیا جا رہاہے اور کہا جا رہا ہے کہ ریاستی حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی سفارشات کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا جا رہا ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستو ںمیں پھنسے ہوئے مزدوروں کی منتقلی کے عمل کے ساتھ ہی ملک کی بیشتر تمام ریاستوں میں کورونا وائرس کے متاثرین میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور ٹرینوں کی خدمات کے آغاز سے ملک کی تمام ریاستوں کے حالات مزید ابتر ہوسکتے ہیں اسی لئے حکومت کی جانب سے 30 جون تک ٹرینوں کی خدمات کو بحال نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اندرون ملک سفر کی بحالی پر بھی 30 جون تک پابندی عائد کرنے کے سلسلہ میں غور کیا جا رہاہے کیونکہ ملک کی کئی ریاستو ںکی جانب سے یہ کہاجا رہاہے کہ دوسری ریاستوں سے ان کی ریاست میں داخل ہونے والوں کو 14دن کے لازمی قرنطینہ میں رہنا ہوگا اسی لئے مرکزی حکومت کی جانب سے فضائی اور ریل کے سفر کے علاوہ بسوں کے آغاز کے منصوبہ کو بھی زیر التواء رکھنے پر غور کیا جانے لگا ہے کیونکہ 14دن کے لازمی قرنطینہ کے فیصلہ سے مسافرین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور لوگوں کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اسی لئے ریاستی حکومتوں کی جانب سے بھی حکومت ہند کے فیصلہ کی حمایت کی جا رہی ہے بلکہ حکومت ہند سے اس بات کی خواہش کی جا رہی ہے کہ وہ خود ان مسائل سے نمٹنے کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنائے۔
