نئی دہلی 13 ستمبر( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت ہندنے سکھ طبقے سے متعلق ’’بلیک لسٹ‘‘ میں شامل 312 سکھوں کو اس فہرست سے نکال دیا ہے،اوراب اس بلیک لسٹ میں صرف دوافراد رکھا گیاہے۔وزارت داخلی امور کے عہدیداروں نے آ ج یہ بات بتائی۔انہو ںنے بتایا کہ یہ فیصلہ مرکز ی حکومت کے مختلف ایجنسیوںکی جانب سے جائز ہ اجلاس کے بعد کیا گیا ۔واضح رہے کہ یہ وہ بیرونی شہریت کے حامل افرادہیں جن کے ناموں کو ہندمخالف سرگرمیوںمیں ملوث رہنے کی وجہ سے بلیک لسٹ کیا گیاتھا۔واضح رہے کہ یہ منفی فہرست ہندوستان کے ذریعہ ایسے افراد کی سرگرمیوںپر نظر رکھی جاتی ہے جو ہندمخالف سرگرمیوںمیں ملوث ہوں۔سرکاری ذرائع نے بتا یا کہ بلیک لسٹ سے نکالے گئے افراد اب ہندوستان کیلئے ویزاکی سہولت سے استفادہ کرسکتے ہیں۔اورہندوستان کا دورہ کرتے ہوئے اپنے ارکان خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی جڑوں سے جڑے ہوئے رہ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ 1980کی دہائی میں ہندوستانی شہریت کے حامل بعض سکھ طبقے کے افراد ہندوستان مخالف پروپگنڈے میں ملوث پائے گئے تھے۔ اوران میں سے بعض سکھ افراد ہندوستان سے راہ فراراختیار کرتے ہوئے بیرون ملک پناہ حاصل کرلی تھی،حتی کہ ان میں سے کئی وہاں کی شہریت بھی حاصل کرلی، جسکے بعدان کو بلیک لسٹ کردیا گیا تھا۔تاہم اب انہیں بلیک لسٹ سے خارج کردیا گیاہے۔