حکومت نے بیمہ ہولڈرز کی رقم سے اڈانی کو فائدہ پہنچایا : کانگریس

   

Ferty9 Clinic

ایل آئی سی کے تقریباً 34000 کروڑ روپے اڈانی گروپ کی مختلف کمپنیوں میں لگائے گئے: جئے رام رمیش

نئی دہلی، 25 اکتوبر (یو این آئی) کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی حکومت نے سرکاری شعبہ کی بیمہ کمپنی، لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا میں پالیسی ہولڈرز کے پیسے کے غلط استعمال کے لیے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی ہے اور غیر قانونی طریقہ سے صنعت کار اڈانی کو فائدہ پہنچانے کا کام کیا ہے ۔ کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ میڈیا میں حال ہی میں کچھ تشویش ناک انکشافات سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے ایل آئی سی اور اس کے 30 کروڑ پالیسی ہولڈرز کی بچت کا منظم انداز میں غلط استعمال کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندرونی دستاویز کے مطابق، سرکاری حکام نے گزشتہ مئی میں ایک تجویز تیار کی اور اسے آگے بڑھایا، جس کے تحت ایل آئی سی کی تقریباً 34,000کروڑ روپے رقم اڈانی گروپ کی مختلف کمپنیوں میں لگائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس کا مقصد اڈانی گروپ پر اعتماد کا اظہار کرنا اور ’دیگر‘ سرمایہ کاروں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ کانگریس نے سوال اٹھایا کہ آخر وزارتِ خزانہ اور نیتی آیوگ کے حکام پر کس کا دباؤ تھا جس کے تحت انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کا کام ایک ایسی نجی کمپنی کو بچانا ہے جو سنگین مجرمانہ الزامات کی وجہ سے مالی بحران کا شکار ہے ؟ انہیں فہرست بند کمپنی ایل آئی سی کو سرمایہ کاری کرنے کی ہدایت دینے کا حق کس نے دیا؟ کیا یہ ’موبائل فون بینکنگ‘جیسا ہی معاملہ نہیں ہے ؟ رمیش نے صنعت کار اڈانی کے بارے میں تفصیل سے بتایا کہ جب 21 ستمبر 2024 کو گوتم اڈانی اور ان کے سات ساتھیوں پر امریکہ میں فردِ جرم عائد کی گئی، تو صرف چار گھنٹے کی ٹریڈنگ میں ہی ایل آئی سی کو 920 ارب ڈالر یعنی 7,850کروڑ روپے کا بڑا نقصان ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی سرمائے کو من پسند کارپوریٹ گھرانوں پر لٹانے کی کتنی بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ۔ اڈانی پر ہندوستان میں مہنگے سولار انرجی ٹھیکے حاصل کرنے کیلئے 2,000 کروڑ روپے کی رشوت اسکیم بنانے کا الزام ہے ۔
مودی حکومت تقریباً ایک سال سے وزیراعظم نریندر مودی کے اس قریبی دوست کے خلاف امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے طلبی نوٹس کو آگے بڑھانے سے انکار کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا، ”مودانی میگا گھپلہ انتہائی وسیع ہے اور اس میں ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس جیسے اداروں کا غلط استعمال شامل ہے ، تاکہ دیگر نجی کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ اپنی جائیدادیں اڈانی گروپ کو بیچ دیں۔ ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں جیسے اہم انفراسٹرکچر وسائل کی جانبدارانہ نجکاری کی گئی تاکہ اس کا فائدہ صرف اڈانی گروپ کو ہو۔ سفارتی ذرائع کا غلط استعمال کر کے مختلف ممالک، خاص طور پرہندوستان کے ہمسایہ ممالک میں، اڈانی گروپ کو ٹھیکے دلائے گئے ۔ اڈانی کے قریبی ساتھی ناصر علی شعبان اہلی اور چانگ چونگ لِنگ نے شیل کمپنیوں کے منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا استعمال کرتے ہوئے کوئلے کی درآمد میں اوور انوائسنگ کی، جس کی وجہ سے گجرات میں اڈانی پاور اسٹیشنوں سے بجلی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ مدھیہ پردیش، راجستھان اور مہاراشٹرا میں غیر معمولی طور پر زیادہ قیمتوں پر انتخابات سے قبل بجلی سپلائی معاہدہ کیے گئے اور ریاست بہار میں ایک پاور پلانٹ کے لیے زمین محض ایک روپے فی ایکڑ کے حساب سے الاٹ کی گئی۔ کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج کا کہنا ہے کہ اس پورے میگا گھپلے کی تحقیقات صرف پارلیمنٹ کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) ہی کر سکتی ہے ۔ ابتدائی قدم کے طور پر، پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کو اس کی مکمل جانچ کرنی چاہیے کہ ایل آئی سی کو اڈانی گروپ میں سرمایہ کاری پر کس طرح مجبور کیا گیا۔ یہ معاملہ پوری طرح اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ۔