حکومت نے خاندانی منصوبہ بندی آپریشن سے 4 خواتین کی موت کا سخت نوٹ لیا

   

ہریش راؤ کا دورہ نمس ہاسپٹل ،زیر علاج خواتین کی عیادت ، حکومت سے مکمل تعاون کرنے کا اعلان

حیدرآباد۔ 31 اگست (سیاست نیوز) ریاستی وزیر صحت ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے خاندانی منصوبہ بندی آپریشن میں 4 خواتین کی اموات کا سخت نوٹ لیا ہے۔ آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کا لائسنس منسوخ کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ کو معطل کیا گیا ہے۔ ہریش راؤ نے آج نمس ہاسپٹل پہنچ کر متاثرہ خواتین کی عیادت کی اور ان کا بہتر سے بہتر علاج کرنے کا ڈاکٹرس کو مشورہ دیا ہے۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر صحت نے بتایا کہ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے اس طرح کا کوئی واقعہ پہلی مرتبہ پیش آیا ہے۔ گزشتہ 6 سال کے دوران ریاست میں 12 لاکھ خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشنس کئے گئے ہیں جو سب کے سب کامیاب ہیں۔ جاریہ ماہ 25 ستمبر کو ضلع رنگاریڈی کے ابراہیم پٹنم سیول ہاسپٹل میں 34 خواتین کا خاندانی منصوبہ بندی کا آپریشن کیا گیا ہے جس میں تاحال 4 خواتین کی موت واقع ہوئی ہے۔ حکومت نے اس واقعہ کا سخت نوٹ لیا ہے۔ دو دن سے متاثرہ خواتین کی صحت پر خصوصی نظر رکھی جارہی ہے۔ چند خواتین نمس ہاسپٹل میں چند خواتین اپولو ہاسپٹل میں زیر علاج ہیں۔ نمس میں زیر علاج خواتین کی صحت بہتر ہے۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ ان کا معائنہ کرنے کے بعد آج چند خواتین کو اور کل چند خواتین کو ڈسچارج کریں گے۔ حکومت نے اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی ہدایت دی ہے اور اس سلسلہ میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کی کارروائی کی جائے گی۔ ن