ناقص آلات کی حصولیابی سے ڈاکٹرس اور مریضوں کو مسائل کا سامنا
نئی دہلی : مرکزی حکومت نے کورونا بحران کے دوران وینٹی لیٹرس کی خریداری کے لئے 2250 کروڑ روپئے خرچ کئے لیکن ناقص آلات کی حصولیابی کے باعث ڈاکٹرس اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں صورتحال بہت خراب رہی۔ مرکزی وزارت صحت کی جانب سے مہاراشٹرا کو 150 وینٹی لیٹرس روانہ کئے گئے جو گورنمنٹ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل اورنگ آباد میں اپریل کے آخری ہفتے میں حاصل کئے گئے۔ ہاسپٹل کی جانب سے مراٹھواڑہ ریجن کے اضلاع اور خانگی ہاسپٹلس ان کی تقسیم عمل میں آئی لیکن چند ہی دنوں میں کئی ہاسپٹلس نے اُن کے ناقص ہونے پر واپس بھیج دیا۔ ڈاکٹرس نے شکایت کی کہ استعمال کے قابل نہیں ہے۔ 8 ڈاکٹرس پر مشتمل ماہرین کی ٹیم نے ایک رپورٹ تیار کی ہے جس کے مطابق وینٹی لیٹرس کا استعمال شروع کرتے ہی کچھ ہی وقفہ میں مریضوں نے سانس لینے میں تکلیف اور دیگر مسائل کی شکایت کی۔ ان شکایتوں کے بعد 150 کے منجملہ 117 وینٹی لیٹرس جن کو کھولا بھی نہیں گیا تھا بغیر استعمال کے ہی رکھا گیا ہے۔ اورنگ آباد گورنمنٹ اینڈ میڈیکل ہاسپٹل کے حکام نے بامبے ہائیکورٹ کو بتایا کہ جن وینٹی لیٹرس کا استعمال کیا گیا اُن کی کارکردگی دیکھنے کے بعد مابقی وینٹی لیٹرس کو کھولنے یا استعمال کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ ڈاکٹر شیواجی بالاباہو نے بتایا کہ اُن کا استعمال کرنا خطرہ سے خالی نہیں تھا۔ ضلع بیڑ کے سکرے سوامی رامانند تیرتھ رورل میڈیکل کالج کے ڈین ڈاکٹر شیواجی بالاباہو نے بتایا کہ اُن کے ہاسپٹل کو 25 وینٹی لیٹرس اورنگ آباد سے حاصل ہوئے تھے لیکن مریضوں کی جان کو خطرہ کے پیش نظر اُن کا استعمال نہیں کیا گیا۔