حکومت پرمالی دہشت گردی پھیلانے کانگریس کا الزام

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی: کانگریس نے جمعرات کو کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت عام انتخابات سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے بینک کھاتوں کو سیل کر کے ملک میں مالی دہشت گردی پھیلا رہی ہے اور جمہوریت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے ۔کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے ، پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، خزانچی اجے ماکن، کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش اور یوتھ کانگریس صدر سرینواس وی بی نے پارٹی کے بینک کھاتوں کو سیل کرکے رقم نکالنے کی کارروائی کو جبراً وصولی قرار دیا اور کہا کہ اگر حکومت انکم ٹیکس کو بہانہ بناکر کانگریس کے کھاتوں کو سیل کرتی ہے تو اسے بتایا چاہیے کہ کیا بی جے پی نے کبھی انکم ٹیکس ادا کیا ہے اور اگر نہیں کیا تو اس کے کھاتوں کو سیل کیوں نہیں کیا جا رہا ہے ۔کھرگے نے کہا، “خودمختار مودی حکومت جبراً وصولی اور مالیاتی دہشت گردی کے ذریعے جمہوریت پر قبضہ کر رہی ہے ۔ اس نے کانگریس کو چندے میں سے ملے 65 کروڑ روپے منتقل کرنے کے لئے نیشنلائزڈ بینکوں کو دھوکہ دیا اور اسے انکم ٹیکس کے ذریعے ضبط کرلیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی نے کبھی انکم ٹیکس ادا کیا؟ بی جے پی کو کم از کم 30 فرموں سے عطیہ ملا کیونکہ اس نے ان پر چھاپے مارنے کے لیے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)، آئی ٹی، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا غلط استعمال کیا تھا۔ رپورٹس سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے کچھ کمپنیوں نے تلاشی کے بعد کے مہینوں میں بی جے پی کو خطیر رقم دی۔انہوں نے کہا، ‘‘ایک طرف مودی حکومت کانگریس کو عطیہ میں ملی عوام کی محنت کی کمائی کو چوری کرنا چاہتی ہے اور دوسری طرف وہ عطیات کا ایک بڑا حصہ ہڑپنے کے لئے ای ڈی، سی بی آئی، آئی ٹی وغیرہ کے ذریعے کارپوریٹ کمپنیوں کو دھمکی دیتی ہے ۔