حکومت پر آر ٹی سی ملازمین کے مسائل نظر انداز کرنے کا الزام

   

Ferty9 Clinic

آندھراپردیش کی طرح حکومت میں ضم کرنے کا مطالبہ، کانگریس ترجمان کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 4 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کانگریس کمیٹی نے آرٹی سی ملازمین کے مسائل کے حل کے لئے کے سی آر حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کے ترجمان سدھیر ریڈی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آر ٹی سی کے ملازمین نظام دور حکومت سے عوامی خدمت میں مصروف ہیں لیکن حکومتوں نے ان کے مسائل پر توجہ نہیں کی ۔ آر ٹی سی ملازمین نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی اور عوام کی جانب سے انہیں ہر سطح پر ستائش موصول ہوئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت کا رویہ آر ٹی سی کو بند کرنے کی سازش دکھائی دے رہا ہے ۔ آر ٹی سی پر مینجنگ ڈائرکٹر کی حیثیت سے کسی موزوں عہدیدار کا تقرر نہیں کیا گیا ۔ عام طور پر آئی پی ایس عہدیداروں کو مقرر کیا جاتا ہے جبکہ ایک بھی آئی اے ایس عہدیدار کو آر ٹی سی کی ذمہ داری نہیں دی گئی۔ سدھیر ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے اعلان کیا تھا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست میں عوام مسائل کی یکسوئی ہوجائے گی لیکن ریاست کی تشکیل کے باوجود عوامی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ تلنگانہ تحریک میں آر ٹی سی ملازمین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین بے جا مطالبات نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ سابق میں آندھراپردیش سے ایک فیصد زیادہ فٹمنٹ بینیفٹ دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ ادارہ کو نظر انداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے مسائل کے حل میں حکومت کی عدم توجہی کو دیکھتے ہوئے ہریش راؤ نے ملازمین کی یونین سے علحدگی اختیار کرلی۔ آندھراپردیش میں آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کیا جارہا ہے لیکن تلنگانہ حکومت اس کے لئے تیار نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ میں آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کیا جائے تاکہ لاکھوں ملازمین اور ورکرس کے مسائل حل ہوسکیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے آر ٹی سی ملازمین کی تنخواہیں 15 تاریخ کو ادا کی جارہی ہے جبکہ سرکاری محکمہ جات کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ جاری کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی پی ایف کی رقم ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔
10,000 سے زائد ملازمین وظیفہ پر سبکدوش ہوئے لیکن ان کی جگہ نئے تقررات نہیں کئے گئے ۔