حکومت پر تنقید سے پہلے شکست کی وجوہات کا جائزہ لیں

   

بی آر ایس قائدین کو سریدھر بابو کا مشورہ،کے سی آر ابھی بھی اقتدار کے زعم میں
حیدرآباد ۔ 11۔ جولائی (سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے بی آر ایس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ لوک سبھا اور اسمبلی چناؤ میں شکست کا پہلے محاسبہ کریں اور کانگریس حکومت پر تنقیدوں سے گریز کریں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ کے ٹی آر اور ہریش راؤ ابھی بھی اس امید میں ہیں کہ وہ دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے ۔ 10 سال تک اقتدار کا نشہ ابھی پوری طرح نہیں اترا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار سے محرومی کے 7 ماہ گزرنے کے باوجود بی آر ایس قائدین ابھی بھی خود کو برسر اقتدار تصور کر رہے ہیں۔ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں عوام نے بی آر ایس کو بری طرح مسترد کردیا ہے ۔ بی آر ایس قائدین کو کانگریس پر تنقید سے پہلے اپنی شکست کی وجوہات کا محاسبہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مخالف عوام فیصلوں کے نتیجہ میں بی آر ایس کو شکست ہوئی ہے۔ سریدھر بابو نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کو تعمیری اپوزیشن کا رول ادا کرتے ہوئے فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں حکومت سے تعاون کرناچاہئے ۔ حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات سے عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سریدھر بابو نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کی ہار اور جیت کا فیصلہ عوام کرتے ہیں لیکن شکست کے باوجود بی آر ایس سربراہ کے سی آر کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ اپنی شکست کیلئے عوام کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں۔ کے سی آر نے چیف منسٹر کی حیثیت سے سکریٹریٹ کا رخ نہیں کیا بلکہ اپنی سرکاری قیامگاہ سے اقتدار چلاتے رہے۔ عوام نے قائد اپوزیشن کے طور پر مسائل کی یکسوئی کا موقع فراہم کیا ہے لیکن کے سی آر فارم ہاؤز تک محدود ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر ابھی بھی کانگریس حکومت کے غیر مستحکم ہونے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 64 اور بی آر ایس کو 39 نشستوں پر کامیابی ملی اور کانگریس نے 25 نشستوں کی اکثریت کے ساتھ حکومت قائم کی ۔ لوک سبھا چناؤ میں بی آر ایس کا مکمل صفایا ہوگیا جبکہ 2019 میں اسے 9 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔ سریدھر بابو نے کے سی آر سے سوال کیا کہ وہ لوک سبھا نتائج کو کیا عوام کا فیصلہ تصور نہیں کرتے ؟ انہوں نے کے سی آر کے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا جس میں آئندہ 15 برسوں تک بی آر ایس کے اقتدار کی پیش قیاسی کی گئی۔ سریدھر بابو نے کہا کہ کانگریس کا اقتدار آئندہ 20 برسوں تک تلنگانہ میں برقرار رہے گا۔ 1