لوک سبھا میں اپوزیشن کا احتجاج ، دفعہ 370 کی برخاستگی ریاستی مقننہ میں قرارداد کی منظوری ضروری
نئی دہلی۔ 6 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن جماعتوں نے لوک سبھا میں منگل کو مسئلہ کشمیر پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے جموں و کشمیر کو خصوصی موقف فراہم کرنے والی دستوری دفعہ 370 کی برخاستگی کے فیصلے سے قبل ریاست کے فریقوں سے مشاورت نہیں کی تھی۔ یہ ایک ایسا الزام ہے جس کو حکمراں بینچوں نے مسترد کردیا اور کہا کہ پارلیمنٹ ملک کے عوام کی مرضی اور منشاء کی نمائندگی کرتا ہے۔ اپوزیشن ارکان نے یہ جواز پیش کیا کہ جموں و کشمیر میں ریاستی مقننہ کو دستور کی دفعہ 370 کی منسوخی کا فیصلہ کرنا چاہئے تھا۔ وزیراعظم کے دفتر میں مملکتی وزیر جیتندر سنگھ نے بحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ملک کے 130 کروڑ عوام کی مرضی و منشاء کی نمائندگی کرتا ہے اور اس سے بڑھا اور کون فریق ہوسکتا ہے۔ ترنمول کانگریس نے یہ کہتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا کہ وہ دفعہ 370 کی منسوخی اور تنظیم جدید قانون کے مسودہ کی تائید یا مخالفت کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر سدھیر بندھو پادھیائے نے کہا کہ ان کی پارٹی مسودہ بل کی تائید کرتی ہے لیکن دفعہ 370 تحریک اور تنظیم جدید بل کی مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں کسی فیصلے سے قبل مختلف قومی جماعتوں سے قائدین سے مشاورت کرنی چاہئے۔ ٹی ایم سی نے فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی گھر پر نظربندی یا حراست سے متعلق اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ کانگریس کے منیش تیواری نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت کے مہاراجہ نے جموں و کشمیر کے ہندوستان میں انضمام کا فیصلہ کیا تھا اور جب سے دفعہ 370 کے تحت اس ریاست کو خصوصی موقف حاصل ہے، تاہم چند دیگر خصوصی دفعات کے تحت کشمیر ہندوستان کا حصہ بنا ہے۔ منیش تیواری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جموں و کشمیر اسمبلی میں بحث و مشاورت کے بغیر اس ریاست کی سرحدیں تبدیل نہیں کرسکتی۔ ایسا کرنا دستور کی توہین ہوگا اور یہ پارلیمنٹ کی روح و جذبہ کے مغائر ہوگا۔