حکومت کا دیوالی تحفہ ،جائیداد ٹیکس میں 50 فیصد کی رعایت

,

   

۔31 لاکھ 40 ہزار خاندانوں کو راحت، حکومت پر 326.48 کروڑ کا بوجھ، کے ٹی آر کا اعلان

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے ریاست کے عوام کو دیوالی کا تحفہ دیتے ہوئے سال 2020-21ء میں جائیداد ٹیکس میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے یہ اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر ریاستی وزیرداخلہ محمد محمود علی، ریاستی وزیرانیمل ہسبینڈری ٹی سرینواس یادو بھی موجود تھے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں 5 ہزار روپئے تک جائیداد ٹیکس ادا کرنے والوں کو 50 فیصد رعایت دینے اور ساتھ ہی ریاست کے دوسرے شہروں میں 10 ہزار تک جائیداد ٹیکس ادا کرنے والوں کو 50 فیصد رعایت دینے کا چیف منسٹر کے سی آر نے فیصلہ کیا ہے۔ وزیر بلدی نظم و نسق نے کہا کہ تاحال جائیداد ٹیکس ادا کرنے والوں کو آئندہ سال کے ٹیکس میں رعایت دینے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ ایک طرف کورونا دوسری طرف دھواں دھار بارش کے پیش نظر غریب اور متوسط طبقہ کے عوام کو راحت فراہم کرنے کیلئے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے کئے گئے اہم فیصلہ کی کے ٹی آر نے ستائش کی ہے اور عوام کی طرف سے اظہارتشکر کیا ہے۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق نے کہا کہ گذشتہ 100 سال کے دوران شہر حیدرآباد کے علاوہ اس کے اطراف و اکناف کے 15 شہروں میں طوفانی بارش ہوئی ہے۔ بارش سے لاکھوں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عوامی مسائل کا جائزہ لینے کے بعد کے سی آر نے چیف منسٹر ریلیف فنڈ سے 550 کروڑ روپئے جاری کئے۔ فوری امداد کے طور پر تمام متاثرین میں فی خاندان 10 ہزار روپئے کے حساب سے 4 لاکھ 75 ہزار 871 خاندانوں میں تاحال 470 کروڑ سے زائد روپیوں کی امداد تقسیم کی گئی ہے۔ دسہرہ سے ایک دن قبل 900 ٹیمیں تشکیل دیتے ہوئے ایک ہی دن میں ایک لاکھ خاندان کو مالی امداد دینے کا چیف منسٹر کے سی آر کو اعزاز حاصل ہے۔ جائیداد ٹیکس میں رعایت دینے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس سے ریاست بھر میں 31 لاکھ 40 ہزار خاندانوں کو فائدہ ہوگا۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں 13 لاکھ 72 ہزار خاندانوں کو فائدہ ہوگا اور حکومت کو 196.48 کروڑ کا بوجھ عائد ہوگا۔ اس طرح ریاست کے دوسرے میونسپلٹیز کے 17 لاکھ 68 ہزار خاندانوں کو فائدہ ہوگا اور حکومت پر 130 کروڑ کا بوجھ عائد ہوگا۔